آپ کی مسکراہٹ دوسروں کے ذہن پر کیا تاثر ڈال سکتی ہے؟

Untitled-2

انسان اپنے جذبات کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتا ہے۔ عام طور پر خوشی کا اظہار مسکراہٹ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر مسکراہٹ جوش اور خوشی میں دی جائے۔

امریکی ماہر نفسیات کے مطابق انسانی دماغ کا رد عمل مختلف قسم کے احساسات پر منحصر ہوتا ہے۔ یعنی دماغ جو پیغام پہنچاننا چاہتا ہےاس کے مطابق ہی جسم عمل کرتا ہے۔ اسی طرح مسکراہٹ بھی مختلف قسم کا پیغام اور تاثر دے سکتی ہے۔

مطالعے سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ وہ مسکراہٹ جو برتری ظاہر کرنے کے لیئے دی جاتی ہے وہ ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، جو مسکراہٹ رویے کو تقویت پہنچانے، یعنی انعام کے طور پر دی جائے، وہ دیکھنے والے کا ذہنی دباؤ گھٹاتی ہے۔

چہرے کے تاثرات میں معمولی سا فرق  بھی سامنے والے کا تجربہ اور آپ کے بارے میں اس کی رائے بدل سکتا ہے۔

تحقیق کاروں نے مسکراہٹ کی تین اہم اقسام بتائی ہیں۔

٭غلبہ یا برتری کا تاثر دینے والی مسکراہٹ اپنا رتبہ جتانے کے لیئے دی جاتی ہے۔

٭ وابستگی ظاہر کرتی ہوئی مسکراہٹ دیکھنے والے پر دوستانہ رویہ ظاہر کرتی ہے۔

٭ انعامیہ مسکراہٹ بھرپور مسکراہٹ جو یہ تاثر قائم کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کی خوشی کا سبب ہے۔

ایک ٹیسٹ میں گفتگو کے دوران کچھ لوگوں کے دل کی شرح اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے ہارمونز(کارٹیسول) کی پیمائش کی گئی۔ جب انہیں غلبہ پانے والی مسکراہٹ پیش کی گئی تو انہیں منفی اور تنقیدی تاثر ملا۔ اس سے انہیں ذیادہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور کارٹیسول کا درجہ بڑھتا ہوا دکھائی دیا اور کچھ دیر تک اونچا ہی رہا۔

البتہ جب انہیں انعامیہ مسکراہٹ دی گئی تو انہیں قدردانی اور قبولیت کا احساس ہوا۔ جس سے ان کے اندر کورٹیسول ور ذہنی دباؤ کم رہا۔

 اس ٹیسٹ میں وہ افراد جن کے دل کی شرح میں تیزی سے تبدیلی آتی ہے، انہوں نے نسبتاً مضبوط اعصابی رد عمل کا اظہار کیا۔  دل کی شرح کا بڑھنا اور گھٹنا فطری یا نا قابل تبدیل نہیں ہے۔ البتہ موٹاپے، ڈپریشن یا دل کی بیماریوں جیسی شکایتیں دل کی شرح میں گھٹاؤ لاسکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان کو سماجی تاثرات کو سمجھنے اور ان پر ردعمل ظاہر کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

loading...
loading...