سپریم کورٹ کاملزم انعام اکبرکونیب کے سامنے پیش ہونےکاحکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی جانب سے اشتہاری کمپنیوں کو اربوں کے فنڈز کے اجراء سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ملزم انعام اکبر کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

 چیف جسٹس کہتے ہیں نیب ملزمان سے دوستانہ رویہ بند کرے۔ چند لاکھ کے فراڈیوں کو نیب جیل بھیجتی ہے اربوں روپے کرپشن والے آزاد گھوم رہے ہیں۔

آج چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی جانب سے اشتہاری کمپنیوں کو اربوں کے فنڈز کے اجراء سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

اس دوران چیف جسٹس انورظہیرجمالی کا  کہنا تھا کہ نیب ملزمان کے ساتھ دوستانہ رویہ بند کرے، نیب ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر ملزمان پکڑتی ہے اور مقدمات درج کرتی ہے۔ پونے 6 ارب روپے کا معاملہ ہے کسی ملزم کے وارنٹ جاری نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ اشرافیہ کے خلاف نیب کا رویہ مختلف ہے۔

 جسٹس شیخ عظمت نے پوچھا کہ نیب کو بادشاہوں کی طرح ملزمان کو گرفتار کرنے کا اختیار کس نے دیا؟پاکستان میں نیب نے کرپشن کو قانونی کردیا ہے، نیب بطور ادارہ لاعلاج ہوچکا ہے۔

عدالت نے اشتہاری کمپنی کے مالک انعام اکبر کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 18 جولائی تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

loading...
loading...