مسئلہ کشمیر دوبارہ سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ

shahmehmoodimage

مظفرآباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر دوبارہ سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم ستمبر میں نیویارک جارہے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ لڑیں گے.

مظفر آباد میں مہاجرین کیمپ میں کشمیریوں سے خطاب میں انھوں نے دنیا بھر میں کشمیریوں اور پاکستانیوں سے مظاہروں کی اپیل کردی اور کہا کہ چپ بیٹھنے کا وقت گزر گیا۔

مظفرآباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقدمہِ کشمیر سلامتی کونسل میں پہنچنے سے پہلے کشمیریوں کی آواز وہاں پہنچنی چاہیے۔

شاہ محمود قریشی کہتے ہیں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر سے کرفیواٹھائے، پاکستان مسئلہ کشمیر پر یک زبان ہے، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہمارا فرض ہے، دنیا کسی غلط فہمی کاشکارنہ رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی نوعیت کا مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کےایجنڈے پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہمارا فرض ہے، اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر سے متعلق 11 قراردادیں ہیں، بھارت نے5 اگست کویک طرفہ کارروائی کی، آج کےدن کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ تمام پاکستانی مسئلہ کشمیر پر یک مقصد ہیں۔

وزیر کارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کےحق کو سلب نہیں کیاجاسکتا، نہتےکشمیریوں کونماز عید کی اجازت بھی دی گئی ہے یا نہیں، ہم نہیں جانتے۔ مسئلہ کشمیر پرتمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک ہے، پوری قوم ایک ہے، ہم کشمیریوں کےساتھ کھڑےہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کشمیریوں کے ساتھ ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت مسئلہ کشمیر پرایک نظر آنی چاہیے، ہم میں اختلافات ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر ہم ایک ہیں، متفقہ قرارداد سے دنیا کو پیغام چلا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی متحد ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا میں جہاں جہاں کشمیری ہیں ان کو پیغام دینا چاہتا ہوں، پاکستان نے اپنا یوم آزادی مسئلہ کشمیرسے منسوب کردیا ہے، پاکستان میں 14 اگست بطور یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ 14اگست کو پورے ملک میں ایک ہی آوازسنائی دے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان، انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں ایک ہی آواز اٹھے گی تو دنیا اس کا نوٹس لے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان سے باہر رہنے والوں سے گزارش ہے کہ ان کا امتحان ہے، انہوں نے آواز نہ اٹھائی تو خون کی ہولی والی بات حقیقت بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکا مقدمہ مضبوط کرنے کے لیے کشمیریوں کو آوازبلند کرنی ہوگی، مقدمہ کشمیرسلامتی کونسل میں پہنچنے سے پہلے کشمیریوں کی آواز وہاں پہنچنی چاہیے۔

loading...
loading...