لیاری گینگ وار کا سب سے خطرناک کارندہ گرفتار

Untitled-1

کراچی: مورخہ 12 / 11 کی درمیانی شب پاکستان رینجرز (سندھ) کی انٹیلی جنس ٹیم نے علی محمد محلہ لیاری میں مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے لیاری گینگ وارغفار ذکری گروپ سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ملزم شہزاد عرف محمد عظیم عرف فیضو دادا کو گرفتار کیا۔

رینجرز کے مطابق ملزم ٹارگٹ کلنگ، قانون نافذ کر نے والے اداروں پر حملے اور بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔

ملزم کے خلاف بغدادی تھانے میں 25ایف آئی آرز بھی درج ہیں اور ملزم کے سر کی قیمت 3 لاکھ روپے مقررہے۔ ملزم کے جرائم کی تفصیلات درج ذیل ہے۔

ملزم نے 2005 میں لیاری گینگ وار غفار ذکری گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے۔

30 جون 2007 کو ملزم نے غفار ذکری گروپ کے کارندوں کے ساتھ مِلکر علی محمد محلہ کے علاقے میں پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔

12 جولائی 2007 کو ملزم نے غفار ذکری کے ساتھ ملکر پولیس پارٹی پر حملہ کیا اور فائرنگ کرکے بغدادی تھانے کے کانسٹیبل ضیاء اللہ کوزخمی کیا۔

ملزم 24 جولائی 2007 کو انگارہ مسجد علی محمد محلہ کے قریب ہونے والے پولیس مقابلے میں شریک تھا۔

2 فروری 2008 کو لیاری گینگ وار (رحمان گروپ) اور غفار (ذکری گروپ) کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ملزم نے ساتھیوں سمیت پولیس پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے دوران لیاری گینگ وار(غفار ذکری ) گروپ کا کارندہ اسماعیل افغانی ہلاک ہوا تھا۔

6 مارچ 2008 کو ملزم اور اس کے ساتھیوں نے ایک پولیس APC پر 3 راکٹ فائر کیے اور بعد ازاں فائرنگ کی۔

14 اپریل 2008 کو ملزم نے بغدادی پولیس موبائل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 راہگیر زخمی ہوگئے۔ اِسی دوران لیاری گینگ وار کے حریف گروپوں میں تصادم ہوا جس کے دوران ملزمان نے پولیس پر فائرنگ بھی کی۔

7 مئی 2008 کو ملزم اور پولیس کے درمیان مقابلے کے دوران عیدو لین کے علاقے میں 3 شہری جاں بحق اور7 زخمی ہوئے۔

 3 جولائی 2008 کو ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مِلکر شاہ عبدالطیف بھٹائی روڈ پر پولیس پر فائرنگ کی۔

13 جولائی 2008 کو بغدادی پولیس نے ذکری پاڑہ بغداری کے علاقے میں ڈرگ مافیا کے خلاف کارروائی کی جس کے دوران ملزم فرار ہوگیا تھا۔

23 اگست 2008 کو ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لیاری گینگ وار مُلا لطیف گروپ کے کارندے زاہد کو قتل کیا۔

25 اکتوبر 2008 کو ملزم کا شاہ عبدالطیف بھٹائی روڈ پر پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

ملزم 18جولائی 2009 کو گن پاٹ جی شاہد ایم سی بی گروپ کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

2009 میں ملزم نے بھتہ نہ دینے پر کریم شاہ کچھی کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔ اس کے علاوہ ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مِلکر غفار ذکری کی ہدایت پرایک بلوچ شہری کو بھی قتل کیا۔

11 جون 2010 کو پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائی کی لیکن ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

 2011 میں ملزم نے غفار ذکری کی ہدایت پر شاہ جہاں نامی منشیات فروش کے بھائی کو قتل کیا۔

12 مار چ 2011 کو ملزم نے کچھی رابطہ کمیٹی سے تعلق رکھنے والے جمشید اور ذاکر کو اغواء کر کے قتل کیا۔

مارچ 2007 میں ملزم نے غفار ذکری کی ہدایت پر اورنگی ٹاؤن سے مراد بخش کو اغواء کیا اور دس لاکھ روپے تاوان طلب کیا، بعدازاں چار لاکھ روپے لے کر مراد بخش کو چھوڑ دیا گیا۔ ملزم اس واقع کی ایف آئی آرجو کہ U/S 365/A/34 کے تحت درج کی گئی تھی میں نامزد ہے۔

2007 میں ملزم غفار ذکری کے لیے ذکری خانہ اسٹریٹ میں منشیات کا اڈا چلاتا رہا۔

2009 میں ملزم نے لیاری گینگ وار کے عبدالجبار عرف جھینگو کو شاہ بیگ لین کے علاقے سے اغواء کیا اور بعدازاں رہا کر دیا۔

2009 سے 2010 تک ملزم آگرہ تاج کے علاقے میں غفار ذکری کی ہدایت پر بھتہ وصولی کرتا رہا۔

ملزم نے 2010 میں غفار ذکری کی ہدایت پر ایک میمن مچھلی کے ٹھیکیدار کو اغواء کیا جسے بعدازاں 4لاکھ روپے تاوان وصول کر کے رہا کیا گیا۔

2011 میں ملزم نے لیاقت آباد سے ایک اردو اسپیکنگ شخص کو کار سمیت اغواء کیا جسے غفار ذکری نے 12 لاکھ روپے تاوان وصول کر کے بعد ازاں رہا کر دیا۔

2011 میں ملزم نے گرفتاری کے خوف سے محمد عظیم سکنہ تربت کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بھی بنوایا۔

10 جولائی 2018 کو پولیس نے غفار ذکری کے منشیات کے اڈے پر چھاپہ مارا لیکن ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ملزم جولائی 2018 تک غفار ذکری کے ساتھ رابطے میں تھا۔

ملزم شہزاد عرف محمد عظیم عرف فیضو دادا کو مزید قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

رینجرز حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03162369996 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

loading...
loading...