لفظ کشمیر کس طرح وجود میں آیا؟ حضرت سلیمان کا کیا تعلق ہے؟

Untitled-1

ایک روایت کے مطابق لفظ کشمیر ‘کاش’ اور ‘میر’ کا مرکب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کاش حضرت سلیمان علیہ السلام کے شاہی دربار میں جنات کا سردار تھا، جبکہ میر پریوں کی سردار تھی۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا بیڑا ہوا میں اڑتا ہوا خطہ کشمیر سے گزرا تو سلیمان علیہ السلام نے پانی کے ایک وسیع ذخیرے میں موجود پہاڑ کی خشک چوٹی پر اس بیڑے کو اترنے کا حکم دیا۔

چنانچہ یہ بیڑا اترا تو آپ نے دیکھا کہ آس پاس حدِنظر تک پانی ٹھہرا ہوا ہے۔ یہ خوبصورت منظر دیکھتے ہی وہ عش عش کر اٹھے۔ انہوں نے مصاحبوں سے مشورہ کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ اگراس جھیل کے پانی کو خارج کر دیا جائے تو اس کی تہہ سے خوبصورت زرخیزوادی نمودار ہوگی جس میں انسانی آبادی ممکن ہوگی۔

اب سوال پیدا ہوا کہ اس جھیل سے پانی کیسے خارج کیا جائے؟ جنوں کا سردار کاش جو اس مجلس میں موجود تھا، اس نے پیش کش کی کہ وہ یہ فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔ لیکن اس نے یہ فرمائش کی کہ اگر وہ یہ خدمت سرانجام دے، تو شاہی دربار میں موجود میر پری اس کے عقد میں دے دی جائے۔ سلیمان علیہ السلام نے اس کی یہ فرمائش پوری کرنے کا وعدہ کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس جھیل کو خالی کرے۔

اس جن نے اپنے طلسماتی عمل سے بارہ کا پہاڑ کاٹ دیا۔ جس سے جھیل کا پانی خارج ہو گیا۔ سلیمان علیہ السلام نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے میر پری اس کے عقد میں دے دی۔ یوں کاش اور میر کی نسبت سے اس خطے کا نام کاشمیر رکھا گیا جو بدل کر کشمیر بن گیا۔

سری نگر کے عقب میں کوہ ہر مکھ کی چوٹی پر تخت سلیمان اس واقعے سے منسوب ہے۔ چودھویں صدی عیسوی میں جب سید علی ہمدانی کشمیر تشریف لائے تو انہوں نے شاید اسی تناظر میں کشمیر کو باغ سلیمان کا نام دیا۔ درجہ بالا تشریحات اور روایات سے اس امر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خطہ کشمیر تاریخی تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے کتنی عظمت اور وسعت اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

اگرچہ پریوں کی موجودگی کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں، لیکن کہانیوں میں ان کا ذکر ایک سماں باندھ دیتا ہے۔ اس روایت کو بھی صرف روایت ہی سمجھا جاتا ہے، اس میں کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ یہ تو کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔

loading...
loading...