اپوزیشن کی وزیراعظم کے خطاب پر تنقید، اسمبلی آنے کا مطالبہ

Untitled-1

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کو ‘پر تشدد’ اور ‘جارحانہ’ قرار دیتے ہوئے ایوان میں آکر پالیسی بیان دینے کا مطالبہ کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں اسمبلی میں آکر پالیسی بیان دینا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمران کا رویہ جارحانہ نہیں ہونا چاہیے، ان کے بیانیے سے کوئی بھی باشعور آدمی اتفاق نہیں کرتا۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی سیاسی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا، لیکن جس کارڈ کو ماضی میں استعمال کیا گیا، وہی اب آپ کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

دوسری جانب خورشید شاہ نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ کونسا مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت کرےگا، اس نام پر مسلمان کٹ مرنے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو ٹارگٹ نہیں بنانا چاہتے، حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہتے، لڑائی نہیں کرنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے، اس پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اور ملکی حالات پر حکومت کو تحمل کے ساتھ باتیں سننی چاہیے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب چینی صدر  شی جن پنگ پاکستان آرہے تھے اور آپ کنٹنیر پر چڑھے تھے، آج آپ چین جا رہے ہیں، آپ کو پارلیمنٹ آنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کھل کر بولے، لیکن وزیراعظم ایوان میں آئیں، انہیں اس ایوان سے بھاگنا نہیں چاہیے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ یہی بات کل جب میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو کہتا تھا تو پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری اور شفقت محمود ڈیسک بجاتے تھے، میرے موقف میں تبدیلی نہیں ہے، آپ کے موقف میں آ گئی ہے۔


loading...
loading...