وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب

Untitled-1

ریاض: وزیراعظم عمران خان کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دو ریاستیں مذہب کی بنیاد پر قائم ہوئیں، پاکستان اسلام کے نام پروجود میں آیا، ہمارا مقصد پاکستان کو مدینہ جیسے ریاست بنانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کو دنیا کی عظیم ریاست بنایا، نیا پاکستان قائداعظم کے وژن کے مطابق بنانا ہے۔

وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تجارتی اور بجٹ خسارہ ورثے میں ملا۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دنیاکوپاکستان میں سرمایہ کاری سےمتعلق آگاہی دینےکی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، ہمیں قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔

عمران خان کہتے ہیں آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہیں، کرپٹ حکمران ریاستی اداروں کو تباہ کردیتا ہے، میگا پروجیکٹس بڑی کرپشن کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بڑے منصوبوں کے بجائے عوام پرسرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہماری اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ ہے۔ جو بھی اصلاحات ہوں گی اس کے نتائج 3 سے 6 ماہ میں آنا شروع ہوں گے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے مدد کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ریاض میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کا موضوع ’مستقبل میں سرمایہ کاری کے مواقع‘ تھا جبکہ وزیر اعظم کے سیشن کا نام ’پاکستان ۔ علاقائی ترقی اور استحکام کا مرکز‘ تھا۔

سوال و جواب کے سیشن کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اقتدار میں آئے ہوئے ابھی 60 دن ہوئے ہیں۔ نئے پاکستان کا مطلب اپنی اصل بنیادوں کی طرف واپس جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ پاکستان کو ایک آئیڈیل مسلم ریاست بنانا ہے۔ ہمیں مالیاتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ملا ہے۔ ہماری اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ان 2 ممالک میں شامل ہے جو نظریے کی بنیاد پر بنے۔ نیا پاکستان قائد اعظم کے اصولوں کے مطابق بنانا ہے، ہمیں فوری طور پر کرنٹ خسارے کے مسئلے کا سامنا ہے۔ منی لانڈرنگ ترقی پذیر ممالک میں بڑا مسئلہ ہے، ’ہم جو بھی اقدامات کریں گے آنے والے دنوں پر اس کا مثبت اثر ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ بینکنگ چینلز سے ترسیلات بھیجنے والوں کو رعایت دیں گے۔ جو بھی اصلاحات ہوں گی اس کے نتائج 3 سے 6 ماہ میں آنا شروع ہوں گے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے مدد کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کو دوست ممالک کے تعاون سے حل کریں گے۔ ’کرپشن کی وجہ سے ملک غریب ہوتا ہے‘۔

 وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی پاکستان کی طاقت ہیں، جن کو ہمیں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا ہے۔

‘نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم’ کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 50 لاکھ گھر تعمیر کیے جائیں گے۔

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پاکستان کے لیے بہت اہم اقتصادی منصوبہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے اور سی پیک کے لیے گوادر جیسے اقتصادی زونز کو ترقی دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر گزشتہ روز سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ پہنچے تھے، جہاں مدینہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان اور سعودی سفیر نے ان کا استقبال کیا تھا۔

  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

 اپنے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

 گزشتہ روز سعودی عرب روانگی سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے وہ سعودی عرب سے قرض لینے کے خواہش مند ہیں۔

 انہوں نے سعودی عرب ایران تنازع ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنےکی پیشکش بھی کی تھی۔

loading...
loading...