طلال چوہدری نے تو ہم پر کفرکے فتوے لگائے: چیف جسٹس

Untitled-1-Recovered

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں طلال چوہدری کی سزا کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی۔ جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ طلال چوہدری نے تو ہم پر کفرکے فتوے لگائے، کفر کے فتوے سے بڑی توہین عدالت کیا ہوسکتی ہے۔

جس پر طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمان اورعدالتوں کا احترام کرتےہیں،

ہم اداروں کی عزت میں اضافہ چاہتےہیں۔

طلال چوہیدری نے چیف جسٹس کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ باہر آکرعدالت کیخلاف بات نہیں کرونگا۔

انہوں نے مزد کہا کہ ملکی معیشت کوتباہ کردیا گیا ہے، ملکی مفاد نیلام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا شہباز شریف کو کام کرنے پر گرفتار کیا گیا، گرفتاری سے ثابت ہوگیا کہ ہم ووٹوں سے ہار نہیں سکتے، ہمیں الیکشن سے باہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

طلال نے کہا ضمنی الیکشن میں مخالفین کوفائدہ نہیں ہوگا، پوری ن لیگ نوازشریف کےپیچھےکھڑی ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل آفس نے سزا توسیع کی درخواست کیوں نہیں دی؟

جس پر وکیل طلال چوہدری نے کہا عدالت سے معافی چاہتا ہوں، درگزر کا مظاہرہ کیا جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن  نے کہا طلال چوہدری نے آج تک معافی نہیں مانگی۔

چیف جسٹس نے کہا بلائیں میاں صاحب کو، آکر نکالیں پی سی او ججز کو۔

عدالت نے طلال چوہدری کا معافی نامہ مسترد کردیا، چیف جسٹس نے کہا ہم ان کی معافی قبول نہیں کررہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئے یہ کسی کی ذات کی نہیں بلکہ ادارے کی بات ہے۔ پانچ سال کی سزا مناسب ہے۔

چیف جسٹس نے کہا آپ دلائل دیں میرٹ پرکیس کوسنیں گے، ہم ان کی معافی قبول نہیں کررہے۔

عدالت نےطلال چوہدری کی معافی کی استدعا قبول کرنے سے انکار کردیا۔


loading...
loading...