ایسا نہ ہو مشرف کوایسے حالات میں آنا پڑے جو ان کیلئے مناسب نہ ہو: چیف جسٹس

Untitled-1

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پرویزمشرف وطن واپسی کیس کی سماعت  کے دوران چیف جسٹس نے اور وکلا کے درمیان مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا پرویزمشرف کی واپسی سےمتعلق آگاہ کریں۔

جس پر وکیل نے جواب دیا کہ پرویزمشرف نے کہا ہے وہ عدالتوں کااحترام کرتےہیں، انہیں سیکیورٹی خدشات ہیں۔

وکیل پرویزمشرف  کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کا اشتہاری قراردیا گیا ہے، لال مسجد کیس میں فوج سے مدد لی گئی۔ لال مسجد کیس میں میرے موکل پرکوئی چارج نہیں۔

وکیل پرویزمشرف نے استفسار کیا کہ  میرے موکل کے خلاف کیا مقدمہ ہے؟

جس پر چیف جسٹس نے کہا ہوسکتا ہےلال مسجد کیس میں کوئی چارج نہ ہو، پرویزمشرف غداری کیس میں ملزم ہیں۔

وہ غداری کیس میں پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق کرینگے۔ یہ نہیں ہوسکتا کوئی عدالت میں پیش نہ ہو۔ پرویزمشرف رضاکارانہ طورپرآجائیں توعزت ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا  جوکہتا تھا جرات مند کمانڈو ہوں وہ جرات کا مظاہرہ کرے، جرات مند کمانڈو کیوں پاکستان نہیں آرہا؟ کہیں ایسا نہ ہوکہ مشرف کوایسے حالات میں آنا پڑے جو ان کیلئے گریس فل نہ ہو۔

انہوں نے کہا چک تو مجھے بھی پڑی ہوئی ہے، پرویزمشرف کوکمرکا مرض لاحق ہے تو یہاں آئیں علاج کرائیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دئے کہ مشرف کے وکیل نے کہا کہ مشرف آنے کو تیار ہے، انہیں سیکورٹی خدشات ہیں، ہم مشرف کو مستقل سیکورٹی فراہم کرتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف پیش ہوں انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ  پرویز مشرف کے وکیل  میڈیکل رپورٹ پیش کرنا چاہتے ہیں، میڈیکل رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کردیں۔

جس کے بعد پرویزمشرف وطن واپسی کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

loading...
loading...