ڈاکٹر عاصم حسین پر فرد جرم عائد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی :کراچی کی احتساب عدالت نے سابق وزیر ڈاکٹر عاصم حسین پر فرد جرم عائد کردی۔

وزارت پیٹرولیم پر 462 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے، ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

عدالت کے باہر کہا کہ’ پہلا سیاسی اسیر ہوں جس کیخلاف اب بکری چوری کا بھی مقدمہ درج کیا جائے گا’۔

کراچی کی احتساب عدالت میں ڈاکٹرعاصم حسین کیخلاف جے جے وی ایل ریفرنس کی سماعت ہوئی،پراسیکیوٹر نے عدالت میں الزامات پڑھ کرسنائے۔

پرا سیکیوٹر کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے اپنے دور میں گیس کی مصنوعی قلت پیداکی،مشترکہ مفادات کونسل کو بھی غلط معلومات فراہم کیں۔

گیس کی مصنوعی قلت سے یوریا کی قیمتوں پراثرپڑا،یوریا کی قیمت فی بوری 850 سے بڑھ کر1،830 روپےتک جاپہنچی۔

حکومت کو یوریا درآمد پر سبسڈی دینا پڑی،جس 2012ٍ سے2013 تک قومی خزانے کو 450 ارب کانقصان پہنچا۔

نیب پراسیکیورٹر نے بتایا کےڈی ایل بی کاغیرقانونی ٹھیکہ حاصل کیا،سابق صدر کے ڈی ایل بی صفدرحسین کی مدد سے ٹھیکہ اورضیاءالدین اسپتال کےقیام کیلئےغیرقانونی طورپرزمین حاصل کی گئی۔

عدالت میں ڈاکٹرعاصم حسین نے صحت جرم سے انکار کردیا،کہا مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،عدالت نے 36 گواہوں میں سے گواہ راحیل کوطلب کرتے ہوئے سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔