چیف جسٹس کی صاحب حیثیت افراد سے قرض واپس کرنے کی درخواست

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے صاحب حیثیت افراد سے قرض واپس کرنے کی درخواست کردی۔

ہفتے کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے بینکوں سےاربوں کے قرضے معاف کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

 سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست ہے جو لوگ صاحب حیثیت ہیں قرض واپس کریں، چاہتے ہیں اس معاملے کو جلد نمٹائیں، اس کے بعد عدالت پر  انتخابی عزرداریوں کا بوجھ آجائے گا۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس میں کہا کہ ہم نے قرضوں کی معافی کیلئے 2 فارمولے تشکیل دیئے ہیں، اے مائنس بی ضرب 75فیصد کے فارمولے پر قرضے واپس کریں، قرضے سے 75 فیصد رقم کی واپسی بہترین فارمولہ ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب پتہ چلامیں جسٹس منیب کوسپریم کورٹ کیوں لے کر آیا، بہت سارے لوگوں نے جسٹس منیب کی تقرری پر  تنقید کی، بار کونسلز نے تقرری کیخلاف قراردادیں پاس کیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سمجھ آجانی چاہیے جسٹس منیب اختر کتنے اعلیٰ پائے کے جج ہیں، فخر ہے جسٹس منیب اختر میری سفارش پر سپریم کورٹ آئے، کسی کو فارمولا اے پسند نہیں تو فارمولابی کے تحت رقم دے سکتا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جنہوں نے  پیسے ادا کر دیئے، انہیں سہولت ملنی چاہیے یہ بہترانصاف ہوگا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انشااللہ قرضے واپس کرنے سے ملک کو بہت فائدہ ہوگا۔

جسٹس ثاقب نثارنے فاروق ایچ نائیک سمیت تمام وکلا کو تحریری تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ 4جولائی کو خصوصی بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔

loading...
loading...