پی آئی اے کے 2008 سے 2018 تک کے ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

PIA

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 2008 سے 2018 تک کے تمام ایم ڈیز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے قومی ایئرلائن کی نجکاری سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پی آئی  اے کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران پی آئی اے کے وکیل نے 9 سال کا آڈٹ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔

مذکورہ کیس کی 6 اپریل کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس نے پی آئی اے کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے ادارے کی 10 سالہ آڈٹ رپورٹ طلب کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘مارکیٹ میں پی آئی  اے کےشیئرز کی قیمت کیا ہے؟’

وکیل پی آئی اے نے آگاہ کیا کہ اس وقت مارکیٹ میں پی آئی  اے کی فی شیئر قیمت 5 روپے ہے۔

 چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں اب تک ہونے والے نقصانات سے آگاہ کریں’۔

وکیل پی آئی اے نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ 2013 میں پی آئی اے کو لگ بھگ 44 ارب روپے، 2014 میں 37 ارب روپے، 2015 میں 32 ارب روپے، 2016 میں 45 ارب روپے اور 2017 میں 44 ارب روپےکا نقصان ہوا۔

چیف جسٹس نے پی آئی اے کے سابق ایم ڈیز کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ‘آپ لوگوں نے ظلم کیا، اتنا بڑا اثاثہ برباد کردیا، پی آئی اے کو برباد کرنے والے دشمن اور غدار ہیں’۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ‘اس نقصان کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ہم انہیں کسی طور  نہیں چھوڑیں گے’۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ ‘پی آئی اے کے وہ تمام ایم ڈیز عدالت آجائیں جن کے ادوار میں نقصان ہوا’۔

جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ ‘پی آئی اے کے 2008 سے 2018 تک کے ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں، ہم ایک کمیشن بنا رہے ہیں تاکہ معاملے کی تحقیقات ہو’۔

loading...
loading...