آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش

muftahaimagee

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چھپن  کھرب سے زائد کا وفاقی بجٹ دوہزار اتھارہ اور انیس پیش کردیا ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل وفاقی بجٹ دوہزار اٹھارہ – انیس پیش کررہے ہیں۔ اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے ملک کا مالیاتی خسارہ موجودہ حکومت کے دوران کم ہونے کا دعویٰ کیا۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسلام آباد میں اسپیکر  ایاز صادق کی زیر صدارت  جاری ہے۔ اجلاس میں وفاقی بجٹ دوہزار اٹھارہ و انیس پیش کیا جارہا ہے ۔ اجلاس سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل خطاب کررہے ہیں۔ اجلاس میں انہوں نے چھٹا بجٹ پیش کرنے کو اعزاز قرار دیا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے اسکی افادیت پر روشنی ڈالی۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں لاقانونیت عام تھی اور لوگوں کے پاس گیس اور بجلی بھی دستیاب نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے دوران قیمتوں میں استحکام رہا۔ انہوں نے ملک کے مالیاتی خسارے میں کمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔

اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران ملک کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور اب پاکستان  چوبیسویں بڑی معیشت ہے۔ اس موقعے پر انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے کسان پیکج کا حوالہ  بھی دیا۔

بجٹ تقریر میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دوران  مالی خسارہ 5.5فیصد تک محدود رہا۔ خدمات کے شعبے نے 6.7 فیصد سے زائد ترقی کی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مارچ میں برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہوا،اسٹاک انڈیکس 37 ہزار تک گیا اورجی ڈی پی میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران  افراط زر کی شرح مارچ تک 3 فیصد تک رہی اور قیمتوں میں استحکام رہا جبکہ نجی شعبے کے قرضوں اور درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ  زرمبادلہ کے ذخائز چھ ارب ڈالر تک سابقہ حکومت کے دوران پہنچ گئے تھے جن میں اضافہ ہوا اور اب  ترسیلات زر کا حجم بیس ارب ڈالر تک پہنچ جائیگا۔

پہلے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مہمان حکومت کو بجٹ پیش کرنے کا جواز نہیں ، حکومت غلط روایت قائم کررہی ہے۔ غیر منتخب شخص بجٹ پیش نہیں کرسکتا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ ایک سال کا بجٹ پیش کرنے کا اخلاقی جواز نہیں ۔ اس موقعے پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ تاریخی بات کررہے ہیں ان کو یہ بات کرنے دی جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج ملک میں نئی نئی روایت قائم کی جارہی ہیں۔

loading...
loading...