نواز شریف کو جولائی 2013 تک تنخواہ جاری ہونیکی تصدیق ہوئی: واجد ضیاء

سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیا-فائل فوٹو

سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیاء-فائل فوٹو

اسلام آباد:سربراہ پاناما جے آئی ٹی واجد ضیا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو جولائی 2013 تک تنخواہ جاری ہونے کی تصدیق ہوئی تاہم یہ ثبوت نہیں ملا کہ نوازشریف یہ تنخواہ لیتے رہے یا ان کے کسی نمائندےنے تنخواہ وصول کی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر کے روبرو نیب ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ اور نیب کے گواہ واجد ضیاء پر جرح جاری رکھی۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ نوازشریف کی ملازمت معاہدے میں اصل تنخواہ ایک لاکھ درہم تھی جسے بعد میں کاٹ کر دس ہزار لکھا گیا۔یہ معلوم نہیں کس نے ایسا کیا۔دبئی جانے والے جے آئی ٹی اراکین نے جس سے دستاویز کی تصدیق کرائی اس کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔نواز شریف نے جولائی2013ء تک کی تنخواہ لی اور اسکی تصدیق کیلئے دبئی فری پورٹ اتھارٹی کی دستاویزات پر انحصار کیا۔ان دستاویز میں تنخواہ اجراء کا ذکر صرف ملازم کیلئے ہےلیکن یہ نہیں لکھا گیا کہ کونسا شخص ملازم تھا۔

واجد ضیاء کے مطابق ایسا کوئی ثبوت یا بینک ریکارڈ بھی نہیں جس سے تصدیق ہو کہ یہ تنخواہ نواز شریف نے براہ راست وصول کی یا کسی اور کے توسط سے تنخواہ لی۔تنخواہ کے جس دستاویز کا اسکرین شاٹ لیا اس پر بھی نواز شریف کا نام درج نہیں۔

نواز فیملی کی دبئی کی کمپنی کیپیٹل ایف زیڈ ای کے مالی حسابات کا چارٹ عدالت میں پیش ہوا۔اس کی تحریر بہت باریک ہونے پر جج اور دیگر کو محدب عدسے لگانا پڑے۔

جرح میں واجد ضیاء نے خواجہ حارث سے جوابی سوال کردیا کہ آپ نے سپریم کورٹ میں تنخواہ لینے کی بات کی تھی۔

خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کبھی ایسا تسلیم نہیں کیا۔

خواجہ حارث کی جرح جاری تھی کہ مقدمہ کی سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کردی گئی۔

نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز حاضر نہیں ہوئے۔

انہوں نے حاضری سے استثنا کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

loading...
loading...