ملکی معیشت کا حجم 34ہزار396 ارب روپے ہوگیا

budgetimage

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پانچ کھرب سے زائد کا وفاقی بجٹ دوہزار اٹھارہ اور انیس پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف چار ہزار چار سو پینتیس ارب روپے رکھا گیا ہے۔ اور سبسیڈیز کی مد ایک سو انہتر ارب روپے رکھے گئے ہیں، ملکی معیشت کا حجم چونتیس ہزارتین سو چھیانوے روپے ہوگیا۔

بجٹ میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس میں معاشی ترقی کا ہدف چھ اعشاریہ دو فیصد رکھا گیا ہے جبکہ نائن فائلرز چالیس لاکھ سے زائد کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے۔ اور یکم جولائی سے ایف بی آر پراپرٹی ریٹ ختم کررہا ہے جبکہ فائیلرز کیلئے جائیداد کی خریداری پر ٹیکس صرف ایک فیصد ہوگا۔

بجٹ میں بارہ لاکھ سالانہ آمدن والے افراد کیلئے ٹیکس کی چھوٹ بھی رکھی گئی جبکہ ایک لاکھ آمدن والے افراد پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ شرح سود تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر آگئی ہے جبکہ پانچ سو ستر ارب روپے سے زائد کے زرعی قرضے مہیا کیے گئے۔

بجٹ تقریر میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ٹیکس وصولی کا ہدف تین ہزار نو سو ارب روپے ہے جو کہ دگنا ہے اور گزشتہ سالوں کے دوران ٹیکس وصولی میں دگنا اضافہ ہوا۔ بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ کرنٹ اکاونت خسارہ بارہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور تیس جون تک زر مبادلہ کے ذخائز موجودہ سطح سے بڑھ جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ اب معیشت کا حجم چونتیس ہزار تین سو چھیانوے روپے ہوگیا ہے۔

loading...
loading...