قائداعظم اورلیاقت علی خان کےبعدصرف کرپشن رائج رہی:چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ملتان:چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کہتےہیں کہ ڈیم سے متعلق میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔ یہ ڈیم پاکستان کیلئے ناگزیر ہے۔

ہفتے کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملتان بار سےخطاب کیا

خطابق میں انہوں نے  کہا کہ ڈیم کی تعمیر کے پاکستان کے عوام محافظ ہیں، آپ نے پہرہ دینا ہے، ڈیم بننے سے روکا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم سے متعلق میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔ یہ ڈیم پاکستان کیلئے ناگزیر ہے۔میری آٹھ سال کی نواسی نے مجھےسات ہزار30روپے ڈیم کے فنڈ کیلئے دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے متعلق ہفتے اور اتوار کو بھی کیسزسنتا ہوں۔بنیادی حقوق انتہائی مقدس ہیں، بنیادی حقوق کی فراہمی لوگوں کا حق ہے، عدلیہ کا احسان نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ  پاکستان تحفے میں نہیں ملا، قائد اعظم کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان بنانے کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دی گئیں۔

چیف جسٹس نے کرپشن کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ  ملک میں صرف ایک چیز نے راج کیا وہ کرپشن، کرپشن اور کرپشن ہے، کرپشن اوراقربا پروری معاشرے کے ناسور ہیں۔

دورانِ خطاب انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سےقائداعظم  اور لیاقت علی خان کے جانے کے بعد صرف کرپشن رائج رہی، کرپشن کیخلاف جہاد کرنا ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کرپشن اور پسندیدگی ہمارے ملک میں رچ بس گئی ہے، کرپشن ختم کیے بغیر ہمارے بچے اور قوم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

تعلیم کے متعلق بات کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ تعلیم پر توجہ دے، تعلیم اور صحت کے مسائل حل کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا اسکولوں میں 35ہزار روپے فیس ہے، ہم ایسے نہیں چلنے دیں گے۔ تعلیم ایک بنیادی حق ہے، آنےوالی حکومت بنیادی حق فراہم کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیں گے، ہم بچوں کو تعلیم دے نہیں بیچ رہے ہیں۔

 چیف جسٹس نے ٹینکر مافیاکا ذکر کرتے ہوئے کہاکراچی میں ٹینکر والے مافیا بن گئے ہیں۔

ان کایہ بھی کہنا تھا کہ تین ماہ میں انکم ٹیکس ٹریبونل فعال ہوجائے گا ۔

loading...
loading...