سی پیک کے پاکستان پر منفی اثرات

5

چین امریکا کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے، جس نے تیز رفتار معاشی ترقی میں جاپان اورجرمنی سمیت دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔سی پیک کے ذریعے چین اپنی پیداوار کو سینٹرل ایشیاء، بحیرہ روم اور یورپ تک پہنچانا چاہتا ہے۔

چین کی اس تیز رفتار معاشی ترقی سے روس ،جاپان ،یورپ اور خاص طور پر امریکا کی معاشی بالا دستی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

 چین کے منصوبہ سازوں نے ملک کی گرتی ہوئی شرح پیداوار کی وجہ سے  سی پیک  جیسی بڑی معاشی راہ داری کا منصوبہ بنایا،  جس کا  مقصد پیداوار کو کم ترین لاگت میں دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچانا ہے۔دیکھا جائے تو پاکستان کی گوادر بندرگاہ استعمال کرنے سے چین کو روزانہ 6 ملین ڈالر کی بچت ہوگی ۔

چین اپنی بیشتر تیل کی ضروریات خلیجی ممالک سے پوری کرتا ہے،جن کا درمیانی فاصلہ  بارہ ہزار  پانچ سو کلو میٹر ہے ، جبکہ گوادر بندرگاہ کو استعمال کرنے سے یہ فاصلہ صرف ڈھائی ہزار کلو میٹر رہ جائے گا۔

یعنی چین پاکستانی معاشی راہداری استعمال کرکے ان گنت  معاشی اور اسٹریٹجک فائدے حاصل کرے گا۔ پاکستان کو اس سے  فائدہ تو  ہوگا ،لیکن چین کے مقابلے بہت کم۔

پاک چین اقتصادی راہ داری  میں چین کی جانب سے کی گئی 46ارب ڈالر سرمایہ کاری کوئی  امداد نہیں ہے، بلکہ یہ قرضے کی شکل میں پاکستان کو دئیے  گئے ہیں  جو بلآخر پاکستانی قوم اور ان کی نسلوں کو سود سمیت لوٹانے ہونگے۔

ہمیں سی پیک کے صرف مثبت رخ کو ہی سامنے نہیں رکھنا چاہیئےبلکہ یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ اس منصوبے سے کسی حد تک ہماری معیشت چین کے  کنٹرول میں آجائے گی،اور اس کے اثرات  پاکستانی سیاست اور سماج پر بھی پڑیں گے؟

اس  معاہدے کے تحت حکومت کو چینی کسانوں  اور مزارعوں کو ان کی پسند کی زمینیں  دینا لازمی ہے ، اس معاملے میں حکومتِ پنجاب نے کوششیں شروع بھی کردی ہیں۔جن کے تحت  جہاں بڑی زمینیں موجود ہونگی یا جہاں چین کو ضرورت ہوگی وہ پاکستان کی اس زمین کو استعمال کرے گا۔

صنعت اعتبار سے دیکھا جائے تو،پاکستانی خام مال چائینہ جائے گا اور وہاں سے مصنوعات کی شکل میں پوری دنیا میں پھیلے گا۔ اس میں ٹیکسٹائل اور معدنیات شامل ہونگی ۔

اصولی طور پر تو ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ ہمیں ایک مارکیٹ مل گئی ہےوہ بھی اتنی قریب۔لیکن یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ جہاں ہمیں  100 فیصد فائدہ ہونا تھا ، وہاں یہ شرح صرف 20 فیصد رہ جائے گی۔یعنی خون پسینہ ہمارا لگےگا اور فنیشنگ کر کے 80 فیصد منافع کوئی اور لے اُڑے گا۔

اس منصوبے کے تحت مین پاور 100 فیصد پاکستان کی ہوگی۔ لگتا یہ ہے کہ حکومت کو اپنے لوگوں سے کوئی ہمدردی ہی نہیں ،اگر ہوتی تو ضرور کہا جاتا ہے کم سے کم 50 فیصد آپ کے اور 50 فیصد ہمارے اس منصوبے میں کام کریں گے۔ اس ضمن میں پاکستانیوں کو روزگار تو ملے گا، لیکن اصولاً 50، 50 ہونا چاہئیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے 24 شہروں میں  24 گھنٹے  سی سی ٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی ہوگی،جس کے نتیجے میں کرائم ریٹ تو کم ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ فوٹیجز پاکستان  کو دی جائیں گی؟ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں آجائے گی۔ کیونکہ ہیکرز کیلئے یہ فوٹیجزحاصل کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہوگی۔

ایک اور بات جو انتہائی امتیازی نوعیت کی ہے  کہ چینی عوام  جب یہاں آنا چاہیں انہیں کسے قسم کےویزا  کی ضرورت نہیں ہوگی جبکہ اگر کوئی پاکستانی چین جانا چاہے تو اسے ویزا درکار ہوگا۔

فائبر آپٹکس اور ٹیلی ویزن کی حوالے سے بھی ایک انقلابی کام ہونے جارہا ہے ،  نئے چینلز بنیں گے نئی مواقع   بھی فراہم  ہونگے، لیکن  ثقافتی یلغار بھی ہوسکتی ہے۔ ہم جیسے لوگ  یلغار کے آگے سر جھکانے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

مختصر یہ کہ سی پیک جہاں اپنے ساتھ خوشحالی لائے گا، تو دوسری جانب ہماری سیکیورٹی،  پرائیویسی اور  خودداری  و خود مختاری کو شدید تو نہیں لیکن  خطرات  ضرور لاحق ہیں۔ باقی آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا تمام خدشات درست ہیں؟ اللہ کرے ایسا کچھ نہ ہو۔ کیونکہ سی پیک پاکستان  کی بقا، سلامتی اور  ارتقاء کیلئے فی الحال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

loading...
loading...