سینیٹ انتخابات: غیر حتمی غیر سرکاری نتائج

1

اسلام آباد: سینیٹ انتخابات کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے پہلی مرتبہ سینیٹ انتخابات میں آزاد امیدواروں کی حیثیت سے حصہ لیا۔

سینیٹ الیکشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج  کے مطابق  پنجاب سے (ن) لیگ کے 13 امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔

جنرل نشست پر پنجاب اسمبلی سے 7 امیدواروں کے کامیاب ہونے کی اطلاع ہے، جن میں زبیر گل، شاہین خالد بٹ، آصف کرمانی، رانا مقبول احمد شامل ہیں۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ٹیکنوکریٹ کی نشت پر کامیاب ہوگئے ہیں، جب کہ مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار مشاہد حسین سید بھی اسلام آباد سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر حافظ عبدالکریم بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔

فاٹا سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق چار سینیٹرز منتخب ہوگئے ہیں جن میں ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، شمیم آفریدی اور مرزا آفریدی کامیاب قرار پائے ہیں۔

سینیٹ کی 52 نشستوں پر 131امیدواروں نے حصہ لیا جبکہ  پولنگ بغیر کسی وقفے کے صبح  9بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہی،جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا۔

 سندھ اسمبلی سے پی پی کے رضا ربانی، مولا بخش چانڈیو اور محمد علی جاموٹ جنرل نشست جب کہ سکندر میندرو ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں اقلیتی نشست پر پیپلزپارٹی کے انور لال ڈین سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔ خواتین کی مخصوص نشست پر پیپلزپارٹی کی کرشنا کوہلی کامیاب قرار پائی ہیں۔

 کوئٹہ سے نیشنل پارٹی کے محمد اکرام اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فیض محمد کامیاب ہوئے۔ جنرل نشست پر آزاد امیدوار صادق سنجرانی، احمد خان ، انوارالحق کاکڑ اور  کودہ بابر کامیاب ہوئے۔  پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار یوسف کاکڑ بھی سینیٹر بننے میں کامیاب ہوگئے۔

بلوچستان سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے 25 امیدوارسامنے آئے۔

loading...
loading...