سپریم کورٹ: خواجہ آصف نااہلی نظرثانی کیس کی سماعت

spimage

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں خواجہ آصف نااہلی نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی ۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ٹیکس تفصیلات ظاہرنہ کرنے پرنااہلی نہیں ہوسکتی ۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پاناما کیس عوامی عہدہ رکھنے سے متعلق تھا ۔ تاحیات نااہلی کے لیے ٹھوس وجہ ہونی چاہیے ۔
سپریم کورٹ میں خواجہ آصف کی نااہلی پرنظرثانی کیس کی سماعت کے دوران عثمان ڈارکے وکیل سکندربشیرمہمند نے کہا کہ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی میں غیرملکی تنخواہ ظاہرنہیں کی ۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسارکیا کہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں تنخواہ ظاہرکرنے کا کالم کہاں ہے ؟ وکیل نے کہا کہ بیرون ملک اثاثے اور ٹیکس ظاہرکرنے کا فارم موجود ہے ۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ ثابت کریں کہ ظاہر کردہ اڑسٹھ لاکھ روپے میں تنخواہ شامل نہیں ۔

وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف نے دو ہزار دس میں کاروبار سے وصول ہونے والے تین کروڑ چالیس روپے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں ۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر نااہلی نہیں ہو سکتی ۔ مقدمہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا ہے ۔  جسٹس فیصل عرب نے  کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہیں ۔ ان کی ٹیکس تفصیلات کا جائزہ ریٹرنگ آفیسر لیتا ہے ۔ تاحیات نااہلی کے لیے ٹھوس وجہ ہونی چاہیے ۔ پاناما کیس عوامی عہدہ رکھنے سے متعلق تھا ۔

بعد ازاں مقدمہ کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی  ۔

loading...
loading...