دبئی میں تنخواہ کی ادائیگی کاسرٹیفکیٹ دیناضروری ہوتاہے: واجد ضیاء

سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیاء-فائل فوٹو

سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیاء-فائل فوٹو

اسلام آباد:پاناماجےآئی ٹی کےسربراہ اورنیب کےاسٹارگواہ واجدضیاء کاکہناہےکہ دبئی میں تنخواہ وصولی کے نظام کاعلم نہیں اورنہ ہی ایسی کوئی تحقیقات کیں جس سےثابت ہوکہ نوازشریف کوتنخواہ جاری ہوئی۔ تنخواہ کا سرٹیفکیٹ تو ہے لیکن تنخواہ بینک سے گئی یا کاؤنٹر سے کیش میں لی، اس کا علم نہیں۔

احتساب عدالت میں شریف فیملی کےخلاف ریفرنسز کی شنوائی ہوئی جس میں نیب پراسیکیوٹر اور وکیل نواز شریف میں آج پھر تلخ کلامی ہوئی۔

سماعت کاآغازہواتونیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایاکہ خواجہ حارث تین روزسےایک ہی نقطےپرسوالات کررہے ہیں۔

خواجہ حارث بولے کہ اگر یہ دستاویزات بطور ثبوت پیش نہ کی جاتیں تو وہ جرح نہ کرتے۔

عدالت نے دونوں کا موقف سننے کے بعد وکیل صفائی کو جرح مختصر کرنے کا حکم دیا۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا دبئی میں تنخواہ کی ادائیگیاں بینک سے ہونا لازمی نہیں ہے؟

جس پر واجد ضیا نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ دبئی میں تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ دینا ضروری ہوتا ہے۔

نوازشریف کو تنخواہ کی ادائیگی کے ذریعہ سے متعلق تحقیقات نہیں کی تھیں۔

loading...
loading...