‘اہلِ ہوس کی جنّت’

Untitled-3

تحریر: سفیر الٰہی

نازوں سے پالا ، اسے کندھوں پر جُھلایا

 ماں نے شِیر تو باپ نے اپنا لہو پلایا

غلطی ہوئی جو اہل ہوس کی جنت میں چھوڑ گئے تنہا

ہوس کے پجاریوں نے روند کر ابدی نیند سلایا

نہ جانے کتنی کلیاں مسلی جاتی ہیں اس شہر میں روز

اُن کی خوشبو ملی ہر جسم سے، جس کو چھوا جس سے ہاتھ ملایا

کیا لگتا ہے آپ کو یہ صرف ننھی زینب کی بات ہے؟ کیا یہ اکلوتا باپ ہے جو اپنی بیٹی کیلئے رو رہا ہے یا یہ اکلوتی ماں ہے جس کے جگر کا ٹکڑا اس سے الگ کیا گیا ہے۔

یہ اندوہ ناک واقعہ کسی مغربی ملک میں نہیں ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان’ میں ہوا ہے۔ ایک ایسا ملک جسے اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا، جسے حاصل کرنے کا مقصد اپنے دین، اپنی عزت نفس اور اپنی آبرو کی حفاظت کرنا تھا۔ لیکن یہ مقصد کب سیاست اور بے حیائی کی نظر ہوا کوئی نہیں جانتا۔

آئے دن کسی نہ کسی کی عزت کو پامال کرنا یہاں ایک معمولی سی بات بن گئی ہے۔ یہاں سات سالہ  معصوم  زینب جیسے پھولوں  کو مسلنے کے بعد قتل کرکے لاش کو کچرے میں پھینک دینا کوئی بڑی بات نہیں۔

پنجاب کا شہر قصور اس حوالے سے ‘اہل ہوس کی جنت ‘ بن گیا ہے، جہاں کمسن بچیوں کے ریپ اور قتل کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں۔ صرف گزشتہ برس اس شہر میں 11 معصوم بچیوں کو  ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد ابدی نیند سلادیا گیا ہے۔ جن میں 6سالہ ایمان فاطمہ،8سالہ نور فاطمہ،9 سالہ لائبہ اور 11 سالہ فوزیہ بھی شامل ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ  دوہزار پندرہ میں بھی قصوراسکینڈل سامنے آیا تھا۔جس میں 2006 سے2014 کے دوران 300 بچوں کاریپ کر کےویڈیوز بنائی گئیں اور والدین کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بٹورے گئے تھے۔

بچے مر جاتے ہیں  ، حکمرانوں کا فوٹو سیشن اور تعزیتیں بھی ہوجاتی ہیں، لیکن قاتل نہیں پکڑے جاتے۔ کچھ بے حس حکمرانوں نے تو الٹا والدین کو قصور وار ٹھہرا دیا، جن میں وزیر قانون پنجاب جناب رانا ثناءاللہ اور ن لیگی رہنما مائزہ حمید سر فہرست ہیں۔

میں سوچ رہا ہوں  کہ اس وقت قاتل کیا کررہا ہوگا؟ شاید ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھ کر  مسکرا تے ہوئے سوچ رہا ہوگا کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، تم نے تو شاہ رخ جتوئی کو جانے دیا، سرفراز کے قتل میں ملوث رینجرز اہلکاروں کو معافی دے دی، ریمنڈ ڈیوس کو جانے دیا۔ میں بھی دیعت دے کر رہا ہوجاؤں گا۔ پھر سڑکوں پر نکلوں گا، پھر کسی زینب کو تلاش کروں گا ، پھر اس کو روند ڈالوں گا۔ تم پھر کسی کچرے کے ڈھیر سے اسے اٹھاؤ گے،  دو دن واویلا کروگے بیانات دوگے اور پھر سب کچھ سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ کیوں کہ یہی اہل ہوس کی جنت کی ریت ہے۔

دیکھا جائے تو یہی سچ ہے، صرف عمران خان کی شادی کی خبر آنے کی دیر ہے اور سب ختم۔ پھر کون سی زینب کون سا قاتل؟ موم بتّی مافیا کو  ہر سال کیلئے ایک نیا کھیل مل جائے گا۔ ہر برسی پر سڑک بلاک ہوگی، موم بتیاں جلائی جائیں گی اوران کی لو بجھنے کے بعد  سب اپنی اپنی راہ لیں گے۔

زینب کا قاتل وہ ایک شخص نہیں، ہم سب ہیں، ہم نے ایسے بے حس حکمرانوں کو چُنا، ہم نے میڈیاپر پھیلتی فحاشی کے خلاف کوئی مؤثر آواز نہ اٹھائی اور اس  بے غیرتی کو آزادی اور لبرل اِزم کا نام دیا۔ زینب کا لہو ہم سب کے ہاتھوں پر ہے۔

کیوں کہ ہم بھی اسی اہل ہوس کی جنت کے باسی ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مکمل طور پر بلاگر کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، اس سے چینل یا ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔