|
|
|
|
وفاق جلد سیلاب زدہ علاقے کی مدد کرے، میاں افتخار
پشاور: خیبر پختونخوا میں سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ کردی گئی، سینئر وزیر بشیر بلور کا کہنا ہے کہ ڈی سی اوز اور ارکان اسمبلی کو فنڈز خرچ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی،آفیسرز میس پشاور میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں وزیر اطلاعات میاں افتخار نے کہا ہے کہ وفاق تمام سرگرمیاں چھوڑ کر جلد از جلد سیلاب زدہ علاقے کی مدد کرے۔ امداد میں چھوٹی سی غلطی بھی تاریخی جرم ہوگا نے کہا کہ متاثرہ اضلاع کو دو کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ریلیز کردیے گئے۔ سیلاب اور ہنگامی حالت کے باعث صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے گھروں کے بجائے سیلاب زدگان کے ساتھ رہیں، حالیہ سیلاب انیس سو انتیس کے بعد صوبے میں سب سے بڑی قدرتی آفت ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ طوفانی بارش اور سیلاب سے تمام انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا، رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کردی، مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔انہوں نے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے پچاس کشتیاں منگوالی ہیں۔
سینئر وزیر بشیر بلور نے آج نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیوی نے بوٹس اور دستوں کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ بشیر بلور کا کہنا تھا کہ کشتیوں کے بغیر لوگوں کا انخلاء ممکن نہیں کیوں کہ ہرطرف پانی کھڑا ہونے کے باعث ہیلی کاپٹرز کی لینڈنگ کے لئے جگہ دستیاب نہیں ہے۔ اس سوال پر کہ جب محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خطرے سے آگاہ کردیا تھا تو سیلاب آنے کے بعد کشتیاں کیوں منگوائی جارہی ہیں بشیر بلور نے کہا کہ اس قدر تباہی کی توقع نہیں تھی۔
بشیر بلور نے کہا کہ تمام محکموں کو فعال کردیا ہے اور ضلعہ رابطہ افسران کو وسائل خرچ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے ارکان صوبائی اسمبلی کو بھی بوٹس خریدنے یا کرائے پر لینے کی اجازت دے دی ہے۔ بشیر بلور کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ تباہی پشاور ،چارسدہ اور نوشہرہ میں ہوئی۔ مالاکنڈ ڈویژن میں دس پل بہہ گئے اور لوگ سیلاب میں پھنس گئے ہیں عارضی پل لگانے کا انتظام کررہے ہیں لیکن وہاں تک پہنچنے کا راستہ نہیں ہے۔
|
|
|
|
| |
 |
|
|
|
 |
|
February 09, 2012, 06:49:42 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 06:38:29 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 06:31:21 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 06:07:00 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 06:01:33 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 03:58:41 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 01:01:12 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 12:55:23 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 12:33:56 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 12:01:56 PM |
|
 |
|
February 09, 2012, 11:50:46 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 10:19:01 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 10:09:16 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 09:13:37 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 08:03:59 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 07:12:39 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 06:10:00 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 05:15:38 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 04:30:52 AM |
|
 |
|
February 09, 2012, 01:45:18 AM |
|
|
|
|