اپینڈکس کا درد کیوں ہوتا ہے؟

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اپینڈکس ایک اضافی آنت ہوتی ہے جو عموماً تو بند ہوتی ہے مگر کبھی کبھی کھانا جمع ہونے کی صورت میں یہ آنت سخت ہوجاتی ہے۔

سخت ہونے پر اس آنت کو نکالا نہیں جائے تو یہ پھٹ بھی سکتی ہے جس کے باعث زندگی کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

یہ آنت پیٹ کے سیدھے طرف پر ہوتی ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے دائیں ٹانگ کھڑی کرکے اور بائیں ٹانگ کو لٹا کر کھانا سنت بنویﷺ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے بیٹھ کر کھانا کھانے سے اپینڈکس دب جاتی ہے اور اس میں کھانے کا کوئی بھی ذرہ نہیں جاتا اور اس طرح اپینڈکس کا درد بھی نہیں ہوتا۔

جن لوگوں کو اپینڈکس کا درد ہوتا ہے اس سے انسان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ کچھ لوگوں سے یہ درد بالکل برداشت نہیں ہوتا اور وہ فوراً اس کا آپریشن کروا لیتے ہیں۔

اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے ایک عرصے تک خطرناک قراردیئے جانے والا اپینڈکس بہت کارآمد ہے اور اس میں جسم کے لئے مفید بیکٹیریا کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔

پوری دنیا میں پتے کے آپریشن کے بعد اپینڈکس کا آپریشن کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کا آپریشن جلدی اس لئے کروا لیتے ہیں کہ اس میں ہونے والا درد ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

لیکن اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اپینڈکس جسم کے لئے مفید بیکٹیریا کا ایک گڑھ ہوتا ہے جو پورے انسان پر مفید اثرات مرتب کرتے ہیں۔

انسانوں کے علاوہ 500 ممالیہ میں بھی اپینڈکس ہوتا ہے جن میں خرگوش اور بن مانس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

 ڈاکٹر اسمتھ کے مطابق اپینڈکس میں لمف ٹشو ہوتے ہیں جو جسمانی امنیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں ۔ اس طرح اپینڈکس اہم ترین بیکٹیریا کا گودام ہوتا ہے اور انسان کو تندرست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات کے لئے ہے۔

loading...
loading...