کیا مسلمان کو تابوت میں دفنایا جا سکتا ہے؟

Untitled-1

اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان کی میت کو بھی تابوت میں رکھ کر دفنایا جاتا ہے، لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں کیا ایسا کرنا جائز ہے۔۔۔؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کے بارے میں علماء کی رائے جاننا بہت ضروری ہے۔

علماء کرام کہتے ہیں کہ بغير كسى ضرورت كے ميت كو تابوت ميں دفن كرنے كى كراہت پر علماء رحمہ اللہ تعالى كا كوئى اختلاف نہيں، ليكن اگر ضرورت ہو، مثلا اگر زمين نرم اور گيلى ہو يا اسے وحشى جانوروں كے كھودنے كا خدشہ ہو تو بعض فقھاء نے ايسى حالت ميں ميت كو تابوت ميں دفن كرنے كى اجازت دى ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوىٰ جات ميں درج ہے:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے عہد مبارك ميں ميت كو تابوت ميں دفن كرنا معروف نہيں تھا، اور مسلمانوں كے ليے بہترى اسى ميں ہے كہ وہ بھى انہيں كے طريقہ پر عمل كريں.

اور اسى ليے چاہے زمين سخت ہو، يا نرم اور گيلى يا پھر اسے وحشى جانوروں كے كھودنے كا خدشہ ہو ميت كو تابوت ميں دفن كرنا مكروہ سمجھا گيا ہے.

اور شافعى حضرات نے زمين نرم يا گيلى ہونے كى صورت ميں ميت كو تابوت ميں دفن كرنے كى اجازت دى ہے، اور شافعيہ كے ہاں بھى اس حالت كے علاوہ اس كى وصيت پر عمل نہيں كيا جائےگا” اھـ (ديكھيں: فتاوى الجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 312 ).

امام ابن قدامۃ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اور تابوت ميں دفن كرنا مستحب نہيں سمجھا جاتا، كيونكہ نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ منقول ہے، اور نہ ہى صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين سے، اور پھر اس ميں دنياوى لوگوں سے مشابھت بھى ہے، اورزمين اس كے فضلات كو خشك كرنے كى زيادہ اہليت ركھتى ہے. اھـ

الانصاف ميں درج ہے :

تابوت ميں دفن كرنا مكروہ ہے، چاہے عورت ہى كيوں نہ ہو، امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے يہى بيان كيا ہے. اھـ

الخطيب شربينى شافعى نے اپنى كتاب”مغنى المحتاج” ميں كہا ہے:

اور بالاجماع ( اور ميت كو تابوت ميں دفن كرنا مكروہ ہے ) كيونكہ يہ بدعت ہے، ( مگر يہ كہ زمين گيلى يا نرم ہو ) تو مصلحت كے پيش نظر مكروہ نہيں، اور اس حالت كے علاوہ اس كى وصيت پر بھى عمل نہيں كيا جائےگا، اور اسى طرح اگر ميت آگ سے جل چكى ہو اور وہ تابوت كے بغير اكٹھى نہ ركھى جاسكتى ہو تو پھر دفن كيا جا سكتا ہے. اھـ

الموسوعۃ القھيۃ ميں ہے:

بالاجماع ميت كو تابوت ميں دفن كرنا مكروہ ہے؛ كيونكہ يہ بدعت ہے، اور ايسا كرنے ميں ميت كى وصيت پر بھى عمل نہيں كيا جائےگا، اور مصلحت كے پيش نظر مكروہ نہيں ہے، اس مصلحت ميں جلى ہوئى ميت بھى شامل ہے جبكہ اس كى ضرورت پيش آجائے. اھـ

واللہ اعلم

loading...
loading...