سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کیوں توڑدی جاتی ہے؟

Untitled-2

آپ نے فلموں میں دیکھا ہوگا کہ عدالت میں ججز جب کسی مجرم کو سزائے موت سناتے ہیں تو استعمال کیے جانے والے پین کی نب کو توڑ دیتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟

یہ رواج برطانوی راج سے جاری ہے، عدالتوں میں مجرم کو سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کو توڑنے یا ضائع دینے کی اہم وجوہات کچھ یوں ہیں۔

Image result for broken nib by judges

 نب اس لیے توڑی جاتی ہے کہ وہ پین جوکسی کی زندگی کے خاتمے کی وجہ بنے، کسی دوسرے کام کےلیے استعمال نہ ہو۔

پین کی نب توڑنے کی ایک وجہ  یہ بھی ہے کہ جب ایک بار جج کسی کو سزائے موت کی سزا سنادے اور لکھ دے تو پھر کوئی اس سزا کو تبدیل نہ کرسکے اوراگر وہ چاہے بھی تو اپنے حکم کی نظرثانی یا اس فیصلے کو فوری طور پر منسوخ نہ کرسکے۔

سزائے موت چونکہ خود ایک دردناک سزا ہے، اس لیے جب جج یہ سزا کسی مجرم کو سناتا ہے تو جج کی جانب سے پین کی نب توڑنا افسوس کا اظہار بھی ہے۔

نب کو اس لیے بھی توڑا جاتا ہے کہ جج دوبارہ اس خونی پین (جو کسی کی موت کی وجہ بنا ہو) سے دور رہ سکے اور اپنے دیئے گئے حکم پر کبھی نادم نہ ہو، کیونکہ جو اس نے کیا وہ قانون کے مطابق تھا۔

loading...
loading...