صحت پر منفی اور مثبت اثرات ڈالنے والی چند عادتیں

habitsاس مصروفیت بھری زندگی میں صحت کا خیال رکھنا انتہائی مشکل لگتا ہے۔ ایسے میں اس بات سے واقف ہونا کہ آپ کی کونسی عادت آپ کو کیا نقصان پہنچا رہی ہے، نا ممکن سی بات ہے۔ قدرت نے انسانی جسم کو اس طریقے سے بنایا ہے کہ اس کے بارے میں ہونے والا ہر انکشاف ڈاکٹر سے لے کر سائنس دانوں تک سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔

حالانکہ ہم اپنی صحت کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی کچھ ایسی عادتیں ہماری زندگی کا حصہ ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ صحت سے متعلق ہمیں کونسی عادتیں اپنانی چاہیئں اور کونسی عادتیں چھوڑ دینی چاہیئں۔

کھانے کے بعد لیٹنا

کبھی بھی پیٹ بھر کے کھانے کے فوراً بعد لیٹنا نہیں چاہیئے۔ کھانے اور آرام کے بیچ کچھ دیر کا وقفہ ضروری ہے۔ یہ وقفہ دو سے تین گھنٹے کا ہونا چاہیئے۔ ہمارا جسم کھانے کو صحیح طور پر اس قوت ہضم کرتا ہے جب جسم بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی حالت میں ہو۔

شام کے بعد بھاری غذا کھانا

وزن گھٹانے کے لئے لوگ بہت سے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں کہ شام 5 بجے کے بعد جسم کی حرکت میں کمی آجاتی ہے۔ حرکت نا ہونے کے باعث نظام ہضم غیر فعال ہوجاتا ہے اور ایسے وقت میں اگر بھاری اور بھرپور کھانا کھا لیا جائے تو وہ ہضم نہیں ہو پاتا۔ اس کے نتیجے میں پیٹ کے دیگر مسائل اور وزن بڑھنے کا عمل سامنے آتا ہے۔ اس لئے شام 5 بجے کے بعد ہمیشہ سادہ اور ہلکی پھلکی غذا کھائیں۔

ٹھنڈے پانے سے ادویات لینا

پیٹ میں جب ٹھنڈا پانی جاتا ہے تو اسے جسم کے اپنے درجہ حرارت پر لانے کے لئے جسم کو اضافی توانائی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ یہ توانائی پیٹ میں موجود غذا کو ہضم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ البتہ دوسری جگہ خرچ ہونے کی بنا پر غذا صحیح طرح ہضم نہیں ہو پاتی۔ سادہ یا نیم گرم پانی پینے سے ہاضمہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ٹھنڈے پانی سے دوا لی جائے تو پیٹ کے اندر ہونے والے ردعمل ٹھنڈے پانی سے مل کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سونے کا صحیح وقت

آرام کرنے اور سونے کا بہترین وقت رات 10 بجے سے لیکر صبح 4 بجے تک ہے۔ ان اوقات میں جسم قدرتی طور پر صحیح اور بھرپور آرام لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صبح کو پانی پینا

صبح کے وقت ذیادہ سے ذیادہ پانی پینا صحت بہتر بنانے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ در اصل پانی جسم سے فاسد مادے خارج کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ صحیح اوقات میں پانی کی مناسب مقدار لینے سے نظام ہضم اور خارجی نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

موبائل کا استعمال

متعدد مطالعوں نے ثابت کیا ہے کہ سیدھے کان پر موبائل کالز سننے والے افراد کو بہرے پن کا خطرہ ذیادہ ہوتا ہے، بانسبت الٹے کان پر موبائل استعمال کرنے والے افراد کے۔

Thanks to WT

loading...
loading...