اپنے غیر فروخت شدہ لگژری برانڈز کیوں جلا دیتی ہے؟ Louis Vuitton

Untitled-1

مڈل کلاس عوام لگژری برانڈز خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، اس لئیے  لگژری برانڈز بنانے والی کمپنیوں کو سالانہ کافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی بھرپائی وہ اپنی مصنوعات کو رعایتی سیل میں بیچ کر کرتی ہیں۔

دیکھا جائے تو ‘لوئی ویتون ‘ (Louis Vuitton) بھی ایسا ہی لگژری برانڈ ہے، جس کے بنائے ہوئے  ہینڈ بیگز اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ایک عام آدمی کو یہ بیگ خریدنے کےلیے شاید پورے ماہ کی تنخواہ خرچ کرنی پڑے۔

 آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ لوئی ویتون ہر سال اپنے فروخت نہ ہونے والے بیگز جلا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کا سستا ترین لگژری پرائیوٹ جیٹ مارکیٹ میں فروخت کیلئے تیار

دیگر کمپنیوں کی طرح لوئی ویتون  فروخت  نہ ہونے والے بیگز کو  سیل میں فروخت نہیں کرتی بلکہ جلا دیتی ہے۔ چاہے اسے نقسان ہہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اس کی وجہ کیا ہے؟

لوئی ویتون نہیں چاہتی  کہ کم آمدنی والے افراد  ان کا لگژری  بیگ خریدیں۔ یعنی لوئی ویتون امیر کبیر افراد کو ہی اپنے خریداروں میں شامل رکھنا چاہتا ہے۔

اسی لیئے وہ نہ فروخت ہونے والے بیگز جلا دیتا ہے تاکہ ایک خاص کلاس ہی اس کے بیگ استعمال کرے۔

فروخت نہ ہونے والے بیگز جلانے کی دوسری وجہ ٹیکس کی ادا کی ہوئی رقم کی واپسی ہے۔ امریکی ڈیوٹی ڈرا بیک قانون کےتحت جو بھی چیز امریکا میں امپورٹ کی جاتی ہے، اس پر ٹیکس دیا جاتا ہے۔لگژری آئٹمز پر ٹیکس بھی زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  زیر زمین لگژری بنکرز، آفات سے بچنے کا پر آسائش طریقہ

کسٹم کے نوٹی فیکیشن کے مطابق نہ فروخت ہونے والے بیگ جلا کر لوئی ویتون کو ادا شدہ 15 سے 20 فیصد ٹیکس واپس مل جاتا ہے۔

یعنی بیگز جلانے سے بھی لوئی ویتون کا نقصان کچھ حد تک کم ہو جاتا ہے۔

لوئی ویتون نے آج تک اپنے نہ فروخت ہونے والے بیگز کو جلانے کی تصدیق نہیں کی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کمپنی نہ فروخت ہونے والے بیگز اپنے ملازمین کو فروخت کر دیا کرتی تھی مگر پھر جلانے لگی۔

بشکریہ ScoopWhoop

loading...
loading...