گفتگو کو متاثر کُن بنانے کے 10 طریقے

9

کسی مشہور آدمی کی کہاوت ہے کہ خوبصورت انداز میں لکھنا  بہت آسان ہے۔ صرف قلم اٹھانے سے ایک تلوار آپ کے ہاتھ  آجاتی ہے جس سے آپ  جتنی چاہے گہری ضرب لگا سکتے ہیں۔ لیکن ذہین آدمی کی پہچان تب ہوتی ہے، جب وہ اچھا لکھنے کے ساتھ ساتھ بر وقت با اثر الفاظ بولنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

کسی دوسرے تک اپنا موقف پہنچانا اور اپنی بات کو صحیح معنوں میں سمجھانا ایک فن ہے۔ اور اس فن کو سیکھنے کے لئے کچھ اہم چیزیں ہیں جو انسان کو ذہن نشین رکھنی چاہیئں۔

آگاہی حاصل ہونا

اچھا بولنے سے مراد کوئی نئی زبان بولنا نہیں ہے۔ ایک ساؤنڈ ریکارڈر میں اپنی آواز یہ سوچ کر ریکارڈ کریں جیسے آپ اپنے سامعین سے مخاطب ہیں۔ اپنی کہی ہوئی بات سننے سے اس میں کمی اور زیادتی کا اندازہ ہوگا۔ اور اس طرح مکمل تصحیح کا موقع ملے گا۔

جذبے کی موجودگی

گفتگو میں جذبات کا ہونا لازمی جز ہے۔ جذبات کے بغیر کسی بات میں اثر پیدا نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے لیڈرز اپنی تقاریر میں جذباتی انداز اسی لئے اپناتے ہیں۔ جب تک کہ سننے والے کو یہ یقین نہ ہوجائے کہ بات دل سے کی جارہی ہے اور سچ کہا جا رہا ہے، تب تک بات اثر انداز نہیں ہوتی۔ جتنی شدت جذبات میں ہوگی اتنی ہی اس کے اثر میں بھی ہوگی۔

اعتماد

جذبات کے ساتھ ایک بہت گہرا تعلق رکھنے والی چیز اعتماد ہے۔ خطیب کو اپنے لہجے میں اور اپنی بات میں خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اعتماد کے بغیر مواصلات بے جان ہوجاتے ہیں۔ ایک پُر اعتماد خطیب سننے والے پر مخلص اور بھروسہ مند ثابت ہوتا ہے۔

آئیڈیل کا انتخاب

کسی ماہرِگفتگوکو سنیں، جو اپنی خوش بیانی کی بنا پر پسند کیا جاتا ہو۔ اسکے اندازِگفتگو اور رویہ کا مشاہدا کریں۔ پھراسکی تقلید کریں، اس کے انداز کو اپنائیں۔ بہت جلد اپکو بھی گفتگو پر عبور حاصل ہوجائے گا۔

خوش مزاجی کا اظہار

کسی کی نظر میں اچھا بننے کے لئے خوش مزاج ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جب آپ لوگوں سے مسکرا کر خوش اخلاقی سے بات کریں گے تو ذیادہ پسند کئے جایں گے۔

تلخی یا صاف گوئی؟

اپنی بات میں صاف گوئی کا استعمال کریں۔ یہ آپ میں اعتماد پیدا کرے گی۔ مگر صاف گوئی اتنی بھی نہ ہو کہ لہجے اور بات کی تلخی میں بدل جائے۔ تلخ بات سننے والے پر برا اثر ڈالتی ہے۔

رابطہ بحال کرنا

مخاطبین کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے سے اچھا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ خود اعتمادی حاصل ہوتی ہے اور سامعین زیادہ بہتر طریقے سے اپکو سمجھ سکتے ہیں۔

خوش الہانی

آواز میں تاثر اور خوش الہانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ الفاظ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ آواز کا اتار چڑھاؤ بہت معنی رکھتا ہے۔ گہری بات سمجھانے کے لئے آواز کو دھیما ہونا چاہیے تاکہ سننے والوں کو جذب کرنے کی مہلت ملے۔

حسِ مزاح

سامعین کو اپنی بات میں الجھائے رکھنے کے لئے اس میں دلچسپی پیدا کریں۔ اور دلچسپی پیدا کرنے کا ایک بہت عام طریقہ سننے والے کو ہنسانا ہے۔ جب سامع کوآپکی بات سننے میں مزہ آنے لگے گا تو وہ آپ کو ذیادہ غور سے سننے پر مجبور ہوجائے گا۔

حرف آخر

کسی بھی فن میں مہارت حاصل کرنے کے لئے اسکی مشق کرنا بہت ضروری ہے۔ اسلئے ذیادہ سے ذیادہ مشق کریں۔

بشکریہ : wittyfeed

loading...
loading...