معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے 10اہم طریقے

quality-of-life

عادت ایک ایسا مضبوط طریقہ کار ہے جو ہمارے معیارِ زندگی کو مجموعی طور پر بہت بہتر بنا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ 21 دن کی مدت ایک نئی عادت ڈالنے اور اس پر قائم رہنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ البتہ ہم سمجھتے ہیں ایک  لمبا سفر کامیابی سے طے کرنے کے لئے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے  ابتداء کرنی پڑتی ہے۔

آج ہم آپ کو ایسی کچھ عادتیں بتائیں گے، جنہیں اختیار کرکے آپ اپنی زندگی کے سفر کو بہتر اور معیاری بنا سکتے ہیں۔ اور ہر لمحے کو بھرپور انداز میں جی سکتے ہیں۔

٭ پانی پینا نہ بھولیں

جسم میں پانی کی اہمیت کو تو سب ہی بخوبی جانتے ہیں اور کچھ حد تک پانی کی مناسب مقدار پینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن صبح اٹھنے کے بعد پانی کا پہلا گلاس آپ کی پورے دن کی کارکردگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ رات بھر کی نیند کے بعد جسم پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے اس لئے صبح اٹھتے ہی جو پہلا کام کریں وہ پانی پینا ہے۔ پانی آپ کے جسم میں توانائی کو بڑھاوا دے گا۔

٭ کافی

کافی اور کوکو کی پھلیاں ہمارے دماغ کے لئے بہت مفید ہیں۔ ان میں ایسے اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں جو بڑھتی عمر کے عوامل کو آہستہ کرتے ہیں۔ جس سے انسان طویل عرصے تک جوان رہتا ہے۔ اس کے علاوہ کیفین یاداشت بحال رکھنے اور نیورونز کو تیزی سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لئے کافی پینے اور چاکلیٹ کھانے میں احتیاط برتیں۔ چینی اور کریم سے بھرپور کافی یا چاکلیٹ استعمال نہ کریں بلکہ دودھ والی کافی کے بجائے بلیک کافی پئیں۔

٭ کاموں کو مت ٹالیں

کاموں کی ایک لمبی لسٹ کی ذمہ داری انسان کو جھنجلاہٹ کا شکار کردیتی ہے۔ لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ کام جو آپ کو سب سے مشکل ترین لگ رہا ہو اس پہلی فرصت میں کریں۔ مشکل لگنے کی وجہ سے اسے اگلے وقت پر مت ٹالیں۔ ایسا کرنا ایک نفسیاتی اثر ڈالتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ طے کرکے ہم آگے بڑھ گئے ہیں اور باقی رہ جانے والے کام قدرے آسان ہیں۔

٭ ہرے کے ساتھ جامنی رنگ بھی

چقندر ایک انتہائی صحت بخش سبزی ہے جس میں وٹامن بی اور اینٹی آکسیڈینٹس موجو ہوتے ہیں۔ یہ دماغ کو توجہ مرکوز رکھنے، دوران خون بہتر بنانے اور خلیات کو آکسیجن کی فراہمی میں مدد دیتے ہیں۔

کھانے میں ہری سبزیوں کے ساتھ چقندر کا استعمال بہت زیادہ تجویز کیا جاتا ہے۔ پالک اور قلفے کے ساگ کے ساتھ چقندر کا سلاد، بیک کئے ہوئے چقندر اور پنیر یا چقندر کا رس غذائیت کا سر چشمہ ہیں۔

٭ مسکرانا نہ بھولیں

ایک نظریے کے مطابق چہرے کے تاثرات کا انسان کے جذبات کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اور جب ہم مسکراتے ہیں تو ہمارا مزاج اور طبیعت خوشگوار ہوجاتی ہے۔ چاہے مسکراہٹ اصلی ہو یا نہیں۔ مسکرانے سے ہمارے دماغ میں اینڈورفنز کی پیدا وار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل وقتاً فوقتاً ہماری جسمانی تکلیف اور جذباتی بے سکونی کم کرسکتا ہے۔

٭ وٹامن ڈی کا استعمال

تحقیق کے مطابق ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور موسم کی تبدیلی سے ہونے والا ڈپریشن وٹامن ڈی کی کمی کی واضح علامات ہیں۔ وٹامن ڈی کا بنیادی ذریعہ سورج کی شعاعیں ہیں۔ جب ہماری آنکھیں سورج کا سامنا کرتی ہیں تو جسم میں ایک ہارمون خارج ہوتا ہے جس سے خوشگواریت کا احساس ہوتا ہے۔ سورج کی تپش مناسب مقدار میں لیں اور اپنے جسم کو مجموعی طور پر اطمینان بخشیں۔

٭ ذہنی تربیت کریں

ذہنی صلاحیت، یاداشت، توجہ اور سوچنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ہمیں اپنے دماغ کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دماغ بھی اس مشین کی طرح ہے جو جتنا چلتی ہے اتنی رواں ہوتی جاتی ہے۔ اپنے ذہن کی تربیت کرنے کے لئے ایسے تجربات کریں جو دماغ کے لئے نئے ہوں۔ نئے موضوعات پڑھیں اور نئے ہنر سیکھیں۔ مثال کے طور پر حساب کرنے کے لئے کیلکولیٹر کا استعمال کرنے بجائے خود حساب لگائیں۔ اس طرح آپ اپنی ذہنی صلاحیتوں میں واضح فرق محسوس کریں گے۔

٭ پُر سکون نیند

ایک بھرپور اور پُر سکون نیند کے لئے بہت سی باتیں ضروری ہیں۔ ان میں مکمل خاموشی، اندھیرا اور لیٹنے کا صحیح انداز سب سے نمایاں ہیں۔ سوتے وقت پیٹ کے بل لیٹنا سب سے ذیادہ مضر سمجھا جاتا ہے۔ البتہ کمر کے بل لیٹنا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ صحیح تکیے کا استعمال بھی پُرسکون نیند میں اہمیت رکھتا ہے۔ کروٹ کے بل سونا بھی ٹھیک رہتا ہے۔

٭ مساج

ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لئے مساج ایک اچھا انتخاب ہے۔ مساج جسم اور اعصاب کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ سردرد، تھکن اور اسٹریس دور کرنے میں بھی کافی کارآمد ہے۔ مساج بہتر اور پُرسکوں نیند کے لئے بھی بہت مفید ہے۔

٭ منفی تاثرات کا خاتمہ

ہماری زندگی میں منفی تاثرات کی کمی نہیں ہے۔ منفی سوچ ہماری ذہنی اور جسمانی صلاحیت کو ضائع کرنے کا کام کرتی ہے۔ روز مرہ کے بُرے تجربات، منفی خیالات اور پریشان کُن واقعات ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے خیلات پر قابو اور عبور حاصل ہونا چاہیئے کہ کونسے خیالات ہمارے لئے مفید ہیں اور کونسے مضر۔

Thanks to Brightside