دل کا دورہ پڑنے سے ایک ماہ قبل ظاہر ہونے والی علامات

heartدنیا کے خطرناک ترین صحت سے متعلق مسائل میں ایک مسئلہ دل کا دورہ پڑنے کا بھی ہے۔ البتہ اس کی روک تھام اور اس سے حفاظت ممکن ہے اگر مناسب اقدامات لئے جائیں۔ سائنس دانوں کے مطابق دل کا دورہ 1 مہینے پہلے سے مختلف علامات ظاہر کرنے لگتا ہے۔ 1 مہینے کا یہ وقت طبی معائنہ کروانے اور دل کے دورے سے بچنے کے لئے کافی ہے۔

آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ وہ کونسی 6 علامات ہیں جو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ظاہر کرتی ہیں۔

نیند کا روٹین

انسان کے جسمانی عوامل بھی ایک خاص روٹین اور خاص عادات کی پیروی کرتے ہیں۔ ایسے ہی نیند بھی ایک خاص روٹین کے تحت آتی ہے۔ اگر کچھ عرصے سے اس روٹین میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہوں، نیند میں خلل یا نیند آنے میں دشواری محسوس ہونے لگی ہو  تو یہ ایک واضح علامت ہے جسم جس کی اطلاع دے رہا ہوتا ہے۔

شدید تھکن

جسم میں اچانک محسوس ہونے والی شدید تھکن اور کمزوری بھی دل کا دورہ پڑنے کی ایک علامت ہے۔ دل کا مناسب طریقے سے کارکردگی نہ کر پانا جسم کو کمزور اور تھکن زدہ بنا سکتا ہے۔

نظام ہضم

مرچ مصالحے دار کھانا کھانے کے بعد نظام ہضم میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہاضمہ خراب ہونے کی کوئی خاص وجہ نہ ہو تو یہ مستقبل میں دل کے دورے کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔

سانس کی کمی

دل تک آکسیجن کی مناسب مقدار نہ پہنچ پانا سانس کی کمی کا شکار کرتا ہے۔ یہ علامت دل کے دورے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

            گھبراہٹ

اگر کسی خاص وجہ کے بغیر پریسشانی یا گھبراہٹ کا غلبہ ہونے لگے تو یہ علامت دل کے دورے کا خطرہ ظاہر کرتی ہے۔

کمزور بازو

جب دل کو آکسیجن کی مناسب مقدار فراہم نہیں ہوپاتی تو ریڑھ کی ہڈی میں ہونے والے رد عمل بازوؤں میں درد پیدا کر کے انہیں کمزور بانا دینگے۔ یہ عمل خاص طور پر اُلٹے بازو کے ساتھ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر اکثر اس قسم کی علامت ظاہر ہونے لگے تو اس کا مظلب ہے کہ جسم دل کے دورے کی آگاہی دے رہا ہے۔

Thanks to DemicNetworks

loading...
loading...