بیگمات کو دی جانے والی 7 اذیتیں, جن کا خاوندوں احساس نہیں

Untitled-1

رشتہ ازدواج ایک نہایت پاکیزہ اور خوبصورت رشتہ ہے۔  یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح ایک انجان شخص سے  بھی محبت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس رشتے میں کرواہٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک اپنی سمت کو مختلف کرنے کی کوشش کرے۔

کبھی  بیوی کو  شوہر سے اختلاف ہوتا   ہےتو کبھی  شوہر کو بیوی  سے شکایتیں ہوتی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی تکلیف میں ہوتو دل دونوں کا دکھتا ہے۔

لیکن بعض اوقات شوہر حضرات بیویوں کو حد سے زیادہ  عاجز کر دیتے ہیں۔

یہاں ہم آپ کو دس ایسی باتیں بتا رہے ہیں جو شوہر حضرات بیگمات  سے روا رکھتے ہیں اور کسی اذیت سے کم نہیں ہوتیں۔ جبکہ خواترین کو احساس تک نہیں ہوتا کہ انہیں اذیت دی جارہی ہے۔

٭ بیوی کو نظرانداز کرنا

محفل میں بیٹھنا اور بیگم کو نظر انداز کرنا، اس کی باتوں کا جواب نہ دینا یا پھر اس کی ضروریات  سے منہ پھیرلینا بھی اس کیلئے ایک اذیت ہے۔ ایک ایسی اذیت جو  احساس نہیں ہونے دیتی۔

 یاد رکھئے اپنی بیوی کو نظرانداز کرنابہت بڑی غلطی ہے۔

٭  طلاق کی دھمکی

لچھ لوگ  بیوی کے سر پر ہر وقت طلاق کی تلوار لٹکائے رکھتے ہیں۔ ذرا سی کوئی بات ہوئی،  اور شروع ہوجاتے ہیں کہ میں تمہیں فیصلہ دے دوں گا،  تمہیں گھر پہنچا دوں گا،  تمہیں چھوڑ دوں گا۔ عموماً ان کا ایک ڈائیلوگ ہوتا ہے کہ مجھے کئی رشتے ملتے ہیں۔

 لیکن یاد رکھئے جس خاوند نے بیوی کے سر پر طلاق والی تلوار لٹکادی اب اس بیوی کو کبھی سکون نہیں مل سکتا۔یہ لفظ عورت کے ذہن میں انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ اس کے ذہن میں منافقت پیدا کر دیتا ہے اور  اس کی شخصیت کو توڑ دیتا ہے۔ لہٰذا خاوندوں کو چاہیے کہ وہ طلاق کی دھمکی کبھی نہ دیں۔

٭ دوسری شادی کی دھمکی

اہلیہ کے خوبصورت نہ ہونے پر یا کسی اور وجہ سے اسے بار بار دوسری شادی کی دھمکی دینا بھی ایک اذیت ہے۔ گو شریعت نے مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ چار شادیاں کر سکتاہے، لیکن جب اس کی بیوی مرد کے سب تقاضے پورے کر رہی ہے تو کیا مصیبت پڑی ہے کہ بیوی کو دوسری شادی کی دھمکی دی جائے یا سوکن لانے کی دھمکی دی جائے اور خواہ مخواہ اپنی اور اس کی زندگی میں پریشانی پیداکی جائے۔

٭ بے عزت کرنا

 چوتھی غلطی عام طورپر خاوند حضرات یہ کر لیتے ہیں کہ اپنی بیوی کی کسی غلطی پر اسے لوگوں کے سامنے روک ٹوک کرتے ہیں، لوگوں کے سامنے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے بے عزت کر دیتے ہیں اور ڈانٹ پلا دیتے ہیں۔ اپنے طور پر تو وہ اچھے بن جاتے ہیں۔ دوسروں کو تاثر مل جاتا ہے کہ دیکھو گھر میں میرا کتنا کنٹرول ہے۔

 ہر ایک کی اپنی عزت نفس ہوتی ہے جب کسی کی عزت نفس کو مجروح کیاجاتا ہے تو پھراس کادل ٹوٹ جاتا ہے، اور یہ چیز گناہ میں شامل ہے۔

٭ وقت نہ دینا

 پانچویں غلطی عام طور پر خاوند یہ کرتے ہیں کہ بیوی کو وقت نہیں دیتے بلکہ جب وقت ملتا ہے بیگم کے بجائے دوستوں کے ساتھ گپے لگائے جاتے ہیں۔ رات ہوجاتی ہے نیند سے جب آنکھیں پُر ہوجاتی ہیں، اس کے بعد کمرے میں آ کر لیٹ گئے اور بیوی سے بات بھی نہ کی۔ کچھ پوچھا بھی نہیں کہ تم جیتی ہو یا مرتی ہو، تمہاری طبیعت ٹھیک ہے یابیمار ہو۔ اب اگر خاوند وقت ہی نہ دے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔بیوی کا شرعی تقاضا ہے کہ اسے خاوند کا وقت ملے۔ لہٰذا وقت دینا چاہیے۔

٭ بیوی پر پابندی

اکثر حضرات  گھر میں تو اصولوں کی پابندیاں کرواتے ہیں مگر خود اصولوں کی پابندی نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ بیوی کوتوکہیں گے کہ تم نے پردہ کرنا ہے۔ لیکن خود پردہ نہیں کرتے اور غیر محرم سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہیں۔ بیوی کو کہتے ہیں کہ تم نے نامحرم کی طرف دیکھنا بھی نہیں اور خود بیوی کی موجودگی میں نامحرم لڑکیوں کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ،پھر یہ جھگڑا نہیں بنے گا تو کیا بنے گا۔ اصول سب کے لیے ہیں۔

٭ نکتہ چینی

 بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکتہ چینی کرنا اور ہر وقت بیوی کو شک کی نظر سے دیکھنا۔ یہ ا یک نفسیاتی  مرض ہے۔ اگر کسی کو یہ مرض لگ جائے تو وہ پھر ہواپر بھی تنقید کرنے لگ جاتا ہے کہ اس وقت یہ کیوں چل رہی ہے؟

loading...
loading...