اپنے جسم کے ان حصوں کو چھونے کی کوشش بھی نہ کریں

bb

انسان کا جسم اپنے اندر بے شمار راز پوشیدہ رکھا ہوا ہے قدرت نے اسے اتنی مہارت سے تخلیق کیا ہے کہ انسان اس حوالے سے سوچ کر ہی چکرا جاتا ہے اور قدرت کی اس مہارت کو سراہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں ہمارے اسی جسم میں کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جن کو ہمیں ہاتھ تک نہیں لگانا چاہیئے۔ اگر نہیں تو کوئی بات نہیں آج ہم آپ کو انہی جسم کے اعضاء کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جنہیں ہمیں ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہیئے۔

چہرے کو

face

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ چہرے کو زیادہ چھونا نہیں چاہیئے لیکن کیوں کوئی وجہ تو ہوگی نا۔ اس کی وجہ ایک ڈاکٹر یہ بتاتی ہیں کہ انسان کے ہاتھوں پر بے شمار بیکٹیریاز اور وائرسز ہوتے ہیں جو جلد کو بار بار چھونے پر اسے شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

منہ کو

mouth

ایک تحقیق کے مطابق انسان کے اندر جو بیکٹیریا اور وائرس منتقل ہوتے ہیں ان کا چوتھائی حصہ منہ اور ہونٹوں کو چھونے سے داخل ہوتا ہے۔ لیکن ہم اس بات سے قطع نظر ہو کر دن میں ہزاروں بار ہم اپنے منہ کو چھولیتے ہیں۔

کھلے زخم کو

wound

جیسا کہ اب ہم جان گئے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کتنے بیکٹیریا ہوتے ہیں اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی کھلے زخم کو چھونا بھی مناسب نہ ہوگا  کیونکہ یہ انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لئے کسی کھلے ہوئے زخم کو چھونا بھی مناسب نہیں ہے۔

ناک کا اندرونی حصہ

nose

ایک ڈاکٹر کے مطابق ہماری ناک کے اندرونی حصے میں قدرتی طور پر صحت مند بیکٹیریا اپنا بسیرا کئے ہوتے ہیں اسی لئے جب آپ اپنی انگلی کو ناک کے اندر منتقل کرتے ہیں تو وہ اور ہاتھ پر لگے بیکٹیریا مل کر صحت کو شدید نقصان پہچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

آنکھوں کو

eyes

اگر آپ اپنی جلد کو زیادہ دیر تک جوان رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی آنکھوں سمیت جلد کے کسی بھی حصے کو زیادہ چھونے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ اگر آپ اپنی آنکھوں کو زیادہ چھوئیں گے تو وہاں بیکٹیریا کے اثر سے جلد ڈھیلی ہوجائے گی۔

کان کا اندرونی حصہ

ears

انسانی کان ایک گھماؤ دار غار کی طرح ہوتا ہے اس میں بھی خاصے بیکٹیریاز کا راج ہوتا ہے اسی لئے اسے صاف رکھنا چاہیئے اور زیادہ چھونے سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے۔

ناخنوں کی اندرونی غلاظت

nails

انسانی ہاتھ میں جتنے بیکٹیریا ناخنوں کے اندر موجود غلاظت میں ہوتے ہیں اتنے کہیں بھی نہیں ہوتے۔ یہ بیکٹیریاز کی پسندیدہ جگہ ہوتی ہے کیونکہ یہاں صابن کی رسائی بھی بے حد مشکل ہوتی ہے۔

Thanks to littlethings