پاناما کیس:سپریم کورٹ میں چیئرمین نیب اورایف بی آر ذاتی حیثیت میں طلب

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی آئندہ سماعت میں چیئرمین نیب اورایف بی آرکوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ۔

جمعرات کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے5رکنی بینچ نے پاناما پیپرزکیس کی سماعت کی، حسین نوازکے وکیل نے منرواکمپنی کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا ۔

جس کے مطابق حسین نوازکے نمائندے فیصل ٹوانہ نے ایرینا کمپنی کیجانب سے معاہدہ کیا اورنمائندہ ہی منروا کمپنی سے ڈیل بھی کرتاتھا ،ارینا کمپنی حسین نوازکے نام ہے جس کے زیرانتظام نیلسن اورنیسکول ہیں۔

بینچ کے نیلسن اورنیسکول سے متعلق پوچھا پروکیل نے کہا فروری سے جولائی 2006 تک مریم نوازبطور ٹرسٹی شیئرہولڈررہیں بیئریرسرٹیفکیٹ کی منسوخی پربطورٹرسٹی بیئریرسرٹیفکیٹ اپنے پاس رکھے۔

جسٹس عظمت نے کہاکہ وزیراعظم کی تقاریرکونظراندازکرنے پرقصوروارہوتے ہیں ، وزیراعظم اورججزآتے جاتے رہتے ہیں قانون ہمشہ رہتے ہیں۔

سلمان اکرم نے کمیشن بنانے پردلائل دیئےتوبینچ نے کہا ایک چونی کا کام نہیں ہوا وقت ضائع کیا جارہا ہے ۔

جسٹس کھوسہ نے وکیل سے کہا کیا دستاویزات نہ دینا کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے سلمان اکرم کے انکارپرجسٹس اعجازبولے پھرتویہ جوا ہے ،جسٹس کھوسہ نے کہا اگرجواہے توکسی کے بھی حق میں جاسکتا ہے ۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ شریف خاندان نے اتنے بڑے لین دین کا کوئی حساب نہیں رکھا ،قطری موقف تسلیم کرنے یا نہ کرنا بنچ کا اختیارہے کیوں کہ دستاویزات نہیں دیئے گئے ۔

وکیل نے کہا اگرقطری موقف تسلیم نہیں توپھردرخواست گزارکوالزامات ثابت کرنا ہوگا ۔

جسٹس عظمت نے کہا ایک مقدمہ مریم نوازکے بینی فیشل ٹرسٹی ہونے کا اوردوسرا کرپشن میں ملوث افراد کونا اہل قراردینے کا ہے اگرسراج الحق ثابت نہ کرسکے تودرخواست سیاسی رقابت سمجھی جائے گی ۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا وزیراعظم سمیت کسی فرد کونہیں بلکہ قانون کو دیکھا جائے گا ۔

بینچ کےسربراہ نے کہاکہ فلیٹس کے حوالے سے خاندان کے بیانات میں تضاد ہے ،وزیراعظم نے فلیٹس خریدنے کا بیان دیااوربچے نے ان کی تردید کردی ۔

وزیراعظم کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پربینچ نے آئندہ سماعت پرچیئرمین نیب اورایف بی آرکوذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا حکم جاری کیا ۔

جسٹس عظمت سعید کی ناسازطبعیت کے باعث بنچ نے ہفتے میں 3روزسماعت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پاناما کیس منگل تک ملتوی کردیا۔

loading...
loading...