کشمیر کا بحران افغان امن عمل پر اثر انداز ہوسکتا ہے،پاکستانی سفیر

فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن :امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا بحران افغان امن عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت کم رابطہ رہ گیا ہے اور صورتحال مزید بدتر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ کو انٹرویو میں امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے کہا کہ پاکستان افغان میں امن کی حمایت کرتا ہےاور مسئلے کے حل کیلیے سنجیدہ کوششیں بھی کررہا ہے،پاکستان افغان طالبان اور امریکا مذاکرات کی کامیابی کیلئےپُرامید ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ وزیراعظم پاکستان کے اقدامات کا بھارت نے مثبت جواب نہیں دیا،دنیا بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کرے،پاکستان امریکی مداخلت کا خیرمقدم کرے گا،چین نے بھی بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر کڑی تنقید کی ہے۔

اسد مجید خان نے بتایا کہ پاکستانی کی افواج افغان سرحد پر تعینات اور اپنا کنٹرول مضبوط بنا رہی ہیں تاکہ امن عمل میں مددگار ثابت ہوں تاہم کشمیر پر بھارتی اقدامات سے صورتحال خراب ہو رہی ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان افغان سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا کر کنٹرول لائن پر منتقل کرنے پر مجبور بھی ہو سکتا ہےتاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اسلام آباد میں ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

اسد مجید کا مزیدکہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت میں بہت کم رابطہ ہے، اور صورتحال مزید بدتر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، بھارتی اقدامات سےخطہ سنگین تنازعہ کےدہانے پر آگیا ہے،بھارت کو تنازعہ کھڑا کرنے سے روکنے کیلئے امریکا جو ممکن ہو کرے، امریکی کوششوں اور پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں امن تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت سے جنگ نہیں چاہتے مگر خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیں گے،مقبوضہ کشمیر کو عالمی برادری متنازع علاقہ تسلیم کرتی ہے۔

اسد مجید خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات نے کشیدگی میں اضافہ کردیا، اقوام متحدہ، امریکا اور دوست ممالک کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

loading...
loading...