سندھ حکومت اور انتطامیہ کی نااہلی اور بے حسی: شہر ڈوب گیا، 13 افراد جاں بحق

 Untitled-1

کراچی: انتظامیہ کی غفلت نے بارش کو زحمت بنا ڈالا، کرنٹ لگنے اور مختلف حادثات میں اب تک 13 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سڑکیں، گلیاں، محلے پانی سے بھرے ہیں۔ بارش اور سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔ نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔

موسلادھار بارش گزشتہ روز شروع ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورا شہر ڈبو دیا۔

گاڑیاں تیرنے لگیں، موٹر سائیکلیں ڈوب گئیں۔ شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، سڑکوں اور محلوں میں کشتیاں چل پڑیں۔

ناظم آباد، نیپا، گلشن اقبال، طارق روڈ، شارع فیصل، شاہ فیصل کالونی، ملیر سمیت کئی علاقے ڈوب گئے۔

بارش کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ درخت اکھڑ گئے، سڑکیں بھی دھنس گئیں۔ ریسکیو کیلیے رضاکار بھی پہنچے، پاک فوج کے اہلکار بھی مدد کیلے پہنچے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارش برسانے والا طاقتور سسٹم ابھی اور جلوہ دکھائے گا۔

کراچی میں جاری رہنے والی موسلا دھار بارش نے شہر کا تو حلیہ بگاڑ دیا۔ لیکن ساتھ ہی انتظامیہ اور سندھ حکومت کی نا اہلی کا پردہ بھی صاف کردیا۔

 سندھ حکومت اور انتظامیہ کے دعوے بہہ گئے۔ موسمیات نے ایک ہفتے قبل بارش کی پیشگوئی کی۔ یہ بھی بتایا کہ اس بار اسپیل طاقتور ہوگا۔ لیکن سندھ حکومت اور انتظامیہ کو ہوش اس وقت آیا۔ جب بارش پانی سر سے اوپر ہوگیا۔

بجلی کی تاریں ٹوٹی پڑی ہیں۔ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن موجود نہیں تو سندھ حکومت اور انتظامیہ۔

عوام اقتدار میں بیٹھے افراد کا رونا رو روہے ہیں، حکومت اور انتظامیہ اختیارات کا سر پیٹ رہی ہے۔

کراچی میں مجموعی طور پر 192 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بادل سب سے زیادہ پی ایف بیس فیصل پر برسے جہاں 192 ملی میٹر بارش ہوئی۔

دوسرے نمبر پر سرجانی ٹاؤن میں 187ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی، ایئرپورٹ کے علاقے میں 151 ملی میٹر، موسمیات کے قریب 143، گلستان جوہر میں 130 ملی میٹر، صدر میں 117ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

loading...
loading...