نئےچیئر مین سینیٹ کےلئے حاصل بزنجو کو میدان میں

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اپوزیشن نے نئے چیئر مین سینیٹ کےلئے حاصل بزنجو کو میدان میں اتار دیا۔سینیٹ قواعد و ضوابط کے مطابق 16 جولائی تک سیکرٹری سینٹ اپوزیشن کی قرارداد پر ممبرز کو نوٹس جاری کریں گے جبکہ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر چئیرمین سینٹ 23 جولائی تک اجلاس بلانے کے پابندہیں۔ ایوان بالا کے چیئرمین کوان کے عہدے سے ہٹانے کےلئے کس کا پلڑا بھاری ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟

اپوزیشن نے 9 جولائی کو دستخط کے ساتھ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف قرارداداورریکوزیشن سیکریٹری سینٹ کو جمع کروائی تھی۔ سینیٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق  7 روز کے اندر ممبرز کو نوٹس کرنا ہوگا جبکہ چیئرمین سینٹ ریکوزیشن کے بعد 14 روز کے اندر اجلاس بلاتا ہے۔

سینیٹ اجلاس بلاتے ہی محرک ممبرز چیئرمین سینٹ کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی تحریک پیش کریں گے۔مذکورہ تحریک منظوری کے لیے ایک چوتھائی یعنی کم از کم 26  سینیٹرز  کی حمایت درکار ہوگی۔

موجودہ چیئرمین سینیٹ کو30منٹ تک بات کرنےدی جائے گی۔  قرارداد پر خفیہ رائے شماری میں اکثریت نے ہٹانے کا فیصلہ دے دیا تو صادق سنجرانی عہدے  پر نہیں رہیں گے۔

موجودہ  104 کے ایوان میں 103 ارکان ہیں۔حلف نہ اٹھانے والے اسحاق ڈار ایوان کا حصہ نہیں۔ اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن کے 67 سینٹرز جبکہ حکومت اور اتحادیوں کی تعداد 36 کے قریب بنتی ہے۔  17 ن لیگ، 13آزاد، پیپلز پارٹی  21، جمیعت علماء اسلام ف 4، جماعت اسلامی 2، اے این پی کا1، نیشنل پارٹی کے 5 اور پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے  4 سینیٹرز ہیں۔ تحریک انصاف کے 14، ایم کیو ایم کے 5، فاٹا کے 7، مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک ایک، اور سینیٹر صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے 8 سینیٹرز ہیں۔

loading...
loading...