حیدرآباد ٹرین حادثہ: شیخ رشید کا تحقیقات کا حکم

sheikhimagee

پاکستان ریلوے کی کراچی سے لاہور آنے والی جناح ایکسپریس یو پی 31 حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پرتقریباً 5 بجکر 10 منٹ پر آٹو سگنل کھلا ملنے کی وجہ سے پہلے سے کھڑی کول اسپیشل ٹرین ‘مال گاڑی’سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں تین افراد موقعہ پر جاں بحق ہوگئے جن میں جنا ح ایکسپریس کا ڈرائیوراسلم چانڈیواور دو اسسٹنٹ ڈرائیور یاسر بشیر اور نعمان شاہ شامل ہیں۔ جبکہ اس حادثے میں کول اسپیشل ٹرین کا گارڈعمران شاہ شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی ہونے والے گارڈ کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیاگیا جہاں اس کو طبی امداد دی جارہی ہے اور گارڈ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اس حادثے میں تمام مسافر محفوظ رہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی روہڑی اور کوٹری سے ریلیف ٹرینیں جائے حادثہ کی طرف روانہ کردی گئی تھیں۔

لاہور سے کراچی جانے والی مین لائین کو کلیئر کردیاگیا اور مین لائن سے اپ اینڈ ڈاؤن کی تمام ٹرینیں معمول کے مطابق گزرہی ہیں اور دو طرفہ ٹریفک کو بھی نصف شب تک بحال کردیا جائے گا جبکہ حادثے کا شکار جناح ایکسپریس یو پی 31 کوبھی نیا انجن لگاکر لاہور کی جانب روانہ کردیاگیاہے۔

سیکرٹری /چیئرمین ریلویز سلطان سکندر راجہ کو پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ بظاہر جناح ایکسپریس کے ڈرائیوراور اسسٹنٹ ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیاہے۔جس کے بعد سیکرٹری/ چیئرمین ریلویز سکندر سلطان راجہ نے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹرآف ریلویز ظفراللہ کلوڑ کو حادثے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف ایگزیکٹوآفیسر پاکستان ریلویز محمد آفتاب اکبر کو تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے فوری طور پر کراچی پہنچنے کی ہدایت کی ہے اور آئندہ چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

وفاقی وزیرریلویز شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ اس حادثے سے مسافروں کو پہنچنے والی تکلیف پر پاکستان ریلوے معذرت خواہ ہے اورابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہفتے کو میں اس پر اپنا فیصلہ بھی دوں گا۔

loading...
loading...