حساب کتاب بند کیاجائے،ایسا نہ ہوعوام کھڑے ہوجائیں،آصف زرداری

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے معاشی پالیسی پرحکومت کو تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حساب کتاب  بند کیا جائے ،کس کس کا حساب لوگے؟ایسا نہ ہو عوام کھڑے ہوجائیں۔

اسپیکراسدقیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے،جہاں بجٹ پر بحث کی جارہی ہے۔

اس موقع پر نیب حکام سابق صدرآصف زرداری کو سخت سیکیورٹی میں لے کر پارلیمنٹ پہنچے جہاں بلاول بھٹو سمیت پارٹی رہنماؤں  نے ان کا استقبال کیا ۔

سابق صدر  ایوان میں پہنچے تواراکین نے آصف زرداری کو گھیرلیا ، آصف اوربختاوربھی گیلری موجود تھیں ۔

آصف زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے سانگھڑ میں کپاس کی فصل کو ہونے والے نقصان پرتوجہ دلائی۔

بجٹ بحث پرخطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے کہاکہ ملک معاشی بحران کا شکارہے،سرکاری ملازمین کی تنخواہ کے ساتھ ٹیکس بھی لگا دیا ،ماحول تناؤکا شکارہے صنعتکاروں اورکاروباری حضرات خوفزدہ ہیں ۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی نے جانوں کا نذرانہ دیا،کاٹن انڈسٹری توجہ چاہتی ہے،ہمارے دور میں کاٹن انڈسٹری پرخاص توجہ دی جاتی تھی،ہرصنعت اشتہار دے رہی ہے کہ ہمیں بچاؤ، بجٹ اچھا ہےتو غریب کیوں رورہا ہے۔

انہوں نے معاشی پالیسی پرحکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں کون کون حساب دے گا،حساب کتاب بند کیا جائے اورآگے چلاجائے ۔

سابق صدرنے کہا کہ میری گرفتاری سے پیپلزپارٹی کوفرق نہیں پڑے گا،میری گرفتاری سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی تاہم موجودہ حالات میں حکومت اورانہیں لانے والی طاقتوں کوگیند ہاتھ سے نکلنے سے پہلے سوچنا چاہیے ایسا نہ ہوکل پوری قوم کھڑی ہوئے اورکوئی  سنبھال نہ سکے ۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ حکومت کا بجٹ اخباروں میں دیکھا،اس میں صداقت نہیں کہ بجٹ وزارت خزانہ نے بنایا،بیٹھ کر معاشی پالیسی پر بات کرلیتے ہیں،پاکستان ہے توہم سب ہیں۔

سابق صدرنے خدشہ ظاہرکیاکہ خطرے کی علامتیں حکومت کونہیں التبہ انہیں نظرآرہی ہیں

loading...
loading...