حمزہ شہباز کا جسمانی ریمانڈ منظور،26 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور :احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا 14روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 26جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت کی،نیب ٹیم نے گرفتار اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز نے دو ہزار چھ میں ایف بی آئی میں اسٹیٹمنٹ جمع نہیں کروائی، 2009میں اسٹیٹمنٹ جمع کروائی گئی اس میں اثاثے بہت زیادہ بڑھ گئے۔

حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے اٹھارہ کروڑ کی رقم آئی، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیسہ کس نے بھیجا اور کن ذرائع سے کمایا، حمزہ شہباز سے 38کروڑ کی رقوم کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ گراؤنڈ آف اریسٹ بتائی جائے،جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 23اکتوبر 2018سے انکوائری شروع کی، سوا 3کروڑ روپے اثاثہ جات تھے، 2003سے 2007کے دوران ایف بی آر میں حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کئے۔

ملزم کو بارہا پوچھا گیا کہ آپ اپنے اثاثہ جات کا جواب دیں، اٹھارہ کروڑ روپے کی تفتیش کرنی ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے۔

 نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ حمزہ شہباز کی بینک ٹرانزیکشن سے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر ہوئی، 2017میں 44ملین کے اثاثے خریدے گئے، تحیق کرنی ہے کہ یہ کہاں سے آئے، 2008کے بعد پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے لیکن پھر بھی انکے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوئی۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو جس بنیاد پر گرفتار کیا گیا وہ وجوہات اور شواہد نہیں دیئے گئے، آئین کے مطابق شفاف ٹرائل ہر ملزم کا حق ہے، جس مواد پر نیب انحصار کر رہا ہے آج تک ملزم کو نہیں دیا گیا، اگر ہمارے پاس وہ مواد ہی موجود نہ ہو تو اپنا دفاع کیسے کریں، آج تک ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں ملزم کا ریمانڈ لیا جائے مگر شواہد نہ دیئے جائیں۔

 حمزہ شہباز پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے اپوزیشن لیڈر ہیں، موجودہ حکومت حمزہ شہباز اور ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، میڈیا پر منی لانڈرنگ کا شوشا چھوڑا گیا تاکہ ذہنوں پر یہ الزام رچ بس جائے۔

 نیب نے پہلے پچاسی ارب کا الزام لگایا اور اب اٹھارہ کروڑ کہہ رہی ہے، جس دور میں منی لانڈرنگ کا الزام لگایا، تب حمزہ شہباز یا ان کا خاندان اقتدار میں نہیں تھا۔

نیب کہتا ہے کہ 2005سے 2009تک منی لانڈرنگ کی، حمزہ شہباز دادا کا کاروبار سنبھالتے رہے،نیب کا نمائندہ ٹی وی پر بھی پہلے بات منی لانڈرنگ پھر اثاثوں کی بات کرتا ہے، منی لانڈرنگ ایکٹ 2010میں آیا جس کا اس سے پہلے کے معاملات پر اطلاق نہیں ہوتا، منی لانڈرنگ کا لفظ سیاسی طور پر شریف خاندان کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، عدالت حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ضمانت کیس میں تمام میٹریل فراہم کر دیا گیا، جو نوٹس جاری کیے ان میں بھی حمزہ کیخلاف بہت سا مواد منسلک کیا جاتا رہا، بینک اکاؤنٹ، ٹرانزیکشن اور جن لوگوں نے رقوم بھیجی وہ تمام تر تفصیل فراہم کر چکے ہیں، قانون میں گرفتاری کی وجوہات کا کہا گیا ہے جو فراہم کر چکے ہیں۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر آمدن سے زائد اثاثہ جات اور رمضان شوگر ملز کیس میں چودہ، چودہ روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو 26جون کو دوبارہ طلب کرلیا۔

loading...
loading...