سنگین غداری کیس میں پرویزمشرف کا حق دفاع ختم کردیا  گیا

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی التواء کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کا حق دفاع ختم کردیا ۔

 جسٹس طاہرہ صفدرکی سربراہی میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے 3رکنی بینچ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

 پرویزمشرف کے وکیل نے التواء کی ایک اوردرخواست جمع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف زندگی کی جنگ لڑرہے ہیں وہ ذہنی اورجسمانی طورپروطن واپس آنے کے قابل نہیں،وہ پیدل نہیں چل سکتے وہیل چیئرپرہیں ۔

 وکیل استغاثہ ڈاکٹرطارق حسن نے دلائل میں وکیل صفائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ عدالت نے پرویزمشرف کوویڈیولنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کا موقع دیا تھا ۔

خصوصی عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہاکہ ملزم چونکہ خرابی صحت کے باعث پیش نہیں ہو پارہا ایسے میں کیس ختم کرنے کی درخواست کوناقابل سمجھتے ہیں ، خصوصی عدالت سپریم کورٹ کے احکامات پرعمل درآمد کرے گی۔

 خصوصی عدالت نے پرویزمشرف کا حق دفاع ختم کرتے ہوئے حکم دیا کہ مفرورملزم وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔

قانون کے مطابق عدالت پرویز مشرف کے دفاع کیلئے خود وکیل مقررکرے گی۔

 عدالت نےملزم کے دفاع کیلئے وزارت قانون کووکلا ءکا پینل بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

 

loading...
loading...