‘جان بھی چلی جائے، چور اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑونگا’

وزیر اعظم پاکستان عمران خان- فائل فوٹو

وزیر اعظم پاکستان عمران خان- فائل فوٹو

وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں یہ بجٹ نئے پاکستان کے نظریے کی عکاسی کرےگا۔ نیا پاکستان مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنے گا۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا مدینہ کی ریاست کے اصول ہیں وہ ہمارے ملک میں نہیں ، وہ آج مغرب میں ہیں۔ مدینہ کی ریاست میں سربراہ جوابدہ تھا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ تمہاری جرات ہے ہمیں پوچھنے کی۔ حضرت علی کے خلاف عدالت میں کیس لانے والا یہودی تھا۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے 7 سو سال دنیا کی امامت کی۔

انہوں نے کہا ریاست مدینہ میں انسان کی قدر تھی۔امیروں سے پیسہ لیکر غریبوں پر خرچ کیا جاتا تھا۔اقلیتوں کےساتھ چارٹر سائن کیا گیا۔

مخالفین کہتے ہیں کدھر ہے وہ نیا پاکستان۔ مدینہ کی ریاست پہلے دن ہی مدینہ کی ریاست نہیں بن گئی۔ وہ کام کیا ہے جو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔بڑے بڑے برج آج اندر ہیں۔آج عدلیہ آزاد ہے۔عمران خان نہ عدلیہ اور نہ نیب کو کچھ کرسکتا ہے۔اس پاکستان میں قانون کی بالادستی نظر آرہی ہے۔

انہوں نے کہاجمہویت کیوں صحیح طریقے سے نہیں چل رہی؟ پہلے دن سے اپوزیشن نے مجھے تقریر نہیں کرنے دی۔ الیکشن کے نتائج پر پہلے دن ہی کمیشن بنانے کیلئے مان گئے۔میں نے انکا کیا بگاڑا تھا؟انکے خلاف کیسز میں نے تو نہیں بنائے۔نوازشریف کے پاناما، زرداری کے کیس ہم نے تو نہیں بنائے۔یہ لوگ میرے اوپر کیوں شور مچارہے ہیں۔ جب اسمبلی جاتا ہوں بدتمیزی کرتے ہیں، شور مچاتے ہیں۔میری غلطی کیا ہے۔میں بس انہیں این آر او نہیں دے رہا۔

عمران خان نے کہا انہوں نے ملک کو مقروض کیا۔یہ مسئلہ 2 این آر اوز نے پیدا کیا۔آج شور مچارہے ہیں کہ زرداری گرفتار ہوگئے۔یہ ایک دوسرے کو کرپٹ کہتے تھے۔نوازشریف نے 2 بار زرداری کو جیل میں ڈالا۔آج یہ دونوں اکھٹے ہوگئے ہیں۔نوازشریف کو این آر اودےکر 10 سال کیلئے سعودی عرب بھیجا۔ حدیبیہ ملز کیس میں سوا ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی۔سرے محل بک گیا، پاکستان میں پیسہ آنا تھا لیکن مشرف نے این آر او دے دیا۔آج ہم مصیبت میں ہیں۔ان دو این آر اوز کی ملک نے قیمت ادا کی۔

وزیر اعظم نے کہا2008میں میثاق جمہوریت طے کیا۔دونوں نے فیصلہ کیا کہ 5 سال تمہارے 5 سال ہمارے۔پاکستان کا قرضہ 10 سالوں میں 30 ہزار ارب تک پہنچا۔24 ہزار ارب روپے ملک کو مقروض کردیا۔یہ چارٹر آف ڈیموکریسی نہیں چارٹر آف کرپشن تھا۔دونوں کو معلوم تھا کہ انہیں پکڑا نہیں جانا۔ اس قرضے کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔پیسے کو حوالے اور ہنڈی سے باہر بھجوا دیتے تھے۔حمزہ کا نتھیا گلی میں گھر بنانا ہو یا شہبازکی دوسری بیوی کو پیسہ دینا ہو تو پھر یہ پیسہ باہر سے منگواتے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا ان لوگوں نے 3 ارب سے بھی زیادہ منی لانڈرنگ کی۔10 سال میں انکی دولت 85 فیصد اوپر گئی۔انہوں نے 4 سے 30 کمپنیاں بنالیں۔زرداری کی 100 ارب کی منی لانڈرنگ سامنے آئی۔ایک خاتون 5 لاکھ ڈالر لیجاتے ہوئے پکڑی گئی۔وہ خاتون 75 بار ملک سے باہر گئی۔وہ خاتون اور بلاول ایک ہی اکاؤنٹ سے پیسے لیتے رہے۔

ان کا کہناتھاپاکستانیوں کے 10 ارب ڈالرز کے باہر بینک اکاؤنٹس ہیں۔ساری منی لانڈرنگ ملک پر بیٹھے سربراہ کررہے ہیں۔وزیراعظم اور وزیر کرپشن کریں تو ملک کو نیچے لے جاتے ہیں۔ہمیں خوف تھا کہ قرضوں کی قسطیں نہ دیں تو ملک ڈیفالٹ کرجائے گا۔آپکو اندازہ نہیں ہوتا کہ روپیہ کہاں تک گرتا۔ روپے کو بوریوں میں بھرا جاتا جیسا وینیزویلا میں ہوا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا چین اور سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی۔ان لوگوں نے پہلے دن سے ہی افراتفری مچا دی۔کہا گیا کہ حکومت کو جانا چاہیئے، سڑکوں پر نکلیں گے۔پہلے تباہ حال ملک چھوڑ کر گئے اوپر سے ہم پر ہی الزام لگارہے ہیں۔خود ہی دیوالیہ نکال کر افراتفری مچا رہے ہیں۔ہم سے جواب مانگ رہے ہیں۔میں اب ان سے جواب مانگنے لگا ہوں۔ابھی تک تو معشیت کی بحالی کا دباؤ تھا۔ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوگیا ہے۔اب میں انکے پیچھے جاؤں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے ہائی پاور کمیشن بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا10سالوں میں 24 ہزار ارب قرضہ کیسے چڑھا؟جو بھی اقتدار میں رہے ان سے تحقیقات ہوگی۔کمیشن میں ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی شامل ہوگی۔کمیشن میں ایف بی آر، ایس ای سی پی ہوگی۔میں اس کمیشن کو سپروائز کروں گا۔میں ایک ایک سے جواب مانگوں گا.سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی سے کسی اور کو بلیک میل کریں۔حکومت تو بہت چھوٹی چیز ہے جان بھی چلی جائے چور اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑنا۔

بجٹ کے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہابجٹ میں پیسہ کمزور طبقے کیلئے رکھا ہے۔ہم سستے گھر اور پناہ گاہیں بنارہے ہیں۔ان حالات میں بھی نچلے طبقے کو اٹھانے کیلئے پورا زور لگائیں گے۔میں اپنا سارا خرچہ خود اٹھاتا ہوں۔ پاکستان آرمی نے جو قربانی دی اس پر سیلوٹ کرتا ہوں۔

loading...
loading...