اختیارات کے غلط استعمال اور کوتاہی میں فرق ہے،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اختیارات کے غلط استعمال اور کوتاہی میں فرق ہے، ہر غلط کام جرم نہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پرنان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزم نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پانچ گاڑیاں رجسٹرڈ کیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے اختیارات کے غلط استعمال کرنے اور کوتاہی ہونے میں فرق ہوتا ہے، ہرغلط کام جرم نہیں ہوتا ، دیکھنا ہے ملزم الفت نسیم نے جان بوجھ کرجعلی دستاویزات کوتسلیم کیا یا غلطی سے ۔

چیف جسٹس نے مزید کہاکہ سرحدی علاقوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی منڈیاں لگی ہیں ، ہرسرکاری افسر کو گڑبڑ کا معلوم ہوتا ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبارمتعلقہ افسران کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے پیلی گاڑیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ساری افغانستان چلی گئیں ،ایک بھی نظرنہیں آتی ، فوجی آپریشن کے دوران ایک پرچی پرنان کسٹم پیڈ گاڑیاں سرحد پارکرتی تھیں ۔

عدالت نے سابق ای ٹی او الفت نسیم کی سزا کیخلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ملزم کو 4سال قید اور30 ہزارروپے جرمانے کا فیصلہ برقراررکھا تاہم 20لاکھ روپے کا جرمانہ ختم کردیا۔

loading...
loading...