فرشتہ قتل کیس:ایس ایچ او شہزادٹاؤن ودیگراہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:اسلام آباد میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی فرشتہ کے کیس میں ایس ایچ شہزاد ٹاؤن محمد عباس سمیت دیگر اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

دس سالہ ننھی فرشتہ زیادتی قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ، ایس ایچ شہزاد ٹاؤن محمد عباس سمیت دیگر اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ۔

فرشتہ کے والد گل نبی کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیاکہ  بچی کوڈھونڈنے اور مقدمے کے اندراج کیلئے تھانے کے کئی چکر لگائے تاہم ایس ایچ اونے ڈھونڈنے کی بجائے کہا کہ فرشتہ کسی کے ساتھ چلی گئی ہوگی۔

  ایس ایچ او مقدمے کےاندراج کے بجائے اہلکاروں سے تھانے کی صفائیاں کرواتے رہے۔

امیرجماعت اسلامی سراج الحق فرشتہ کے گھر پہنچے اور والد سمیت دیگر لواحقین سے تعزیت کی۔

 سراج الحق نے رمضان المبارک میں اسلام آباد میں 10سالہ بچی فرشتہ کی عزت محفوظ نہ ہونے اور پانچ روز بعد مسخ شدہ لاش ملنے پر شرمندگی اور مذمت کا اظہار کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ  چند قدم پر وزیراعظم، صدر، آئی جی سمیت تمام کے دفاتر ہیں، کاش حکمران فرشتہ بچی کو اپنی بچی سمجھتے،  ایف آئی آر تک درج کرانے کیلئے دھرنے دینا پڑتے ہیں،وزیراعظم کے گرد سب چاپلوس اکٹھے ہیں، سب اچھے کی رپورٹ ملتی ہے۔

 سراج الحق نے مزید کہاکہ ایسے واقعے پر تو ساری ریاست کوحرکت میں آنا چاہیے تھا ،وزیراعظم کا حکومت کرنا کوآسان کہنا نا سمجھی ہے ۔

فرشتہ کے والد گل نبی نے مجرموں کی گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ کیا ،گزشتہ روز دھرنا ختم کرنے کیلئے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اور ایس ایچ او کی معطلی کے مطالبہ کوتسلیم کیا تھا۔

loading...
loading...