سندھ ہائیکورٹ کا 22 اگست تک  لاپتا افراد کو بازیاب کرانے کا حکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی :سندھ ہائیکورٹ   نے لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران 22 اگست تک  لاپتا افراد کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔

 سندھ ہائیکورٹ میں  ایک سو سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی  جہاں عدالت نے آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور دیگر سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے  22 اگست تک  لاپتا افراد کو بازیاب کراکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورت میں خاتون  کا کہنا تھا کہ بیٹے جمیل کی گمشدگی میں پولیس اہلکار جان محمد اور راجا طارق ملوث ہیں،دونوں اہلکاروں نے بیٹی کی بازیابی کیلئے50 ہزار روپے مانگے۔

خاتون کے بیان  پرعدالت نے کراچی پولیس چیف کو دونوں اہلکاروں سے خود تفتیش کرنے کا حکم دے دیا۔

لاپتہ شہری محمود علی کی اہلیہ نے عدالت میں کہا کہ تیسری عید آرہی ہے لاپتا شوہر گھر واپس نہیں آیا ،اب میں بھی خود کشی کرلوں گی،میرے والدین مجھے اور میری بیٹی کو پال پال کرتھک چکے ہیں، میں خود کو آگ لگا دوں گی۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹوکا کہنا تھا کہ مایوس نہیں، آپ کے شوہر بھی واپس آجائیں گے، اب لاپتا افراد واپس آنا شروع ہوگئے ہیں،آج بھی 10،15 لاپتا افراد کے گھر واپس آنے کی رپورٹ آئی ہے۔

 جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو  نے تفتشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا تیر مار کرآئے ہو؟  تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی؟  ہر پیشی پر ایک جیسی رپورٹ لے آتے ہو،لوگ پریشان ہورہے ہیں رو رہے ہیں۔

 اسلم جاوید ایڈوکیٹ کا عدالت میں کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے اہلیہ خانہ لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے پر مجبور ہیں،جو لوگ لاپتا ہیں،ان کے گھر والوں کو 50 ہزار روپے نان نفقہ دینے کا حکم دیا جائے۔

 لاپتا شہری ناصر، فیض اور معاذ کا کہا گیا ،وہ کے پی کے حراستی مرکز میں ہیں،انٹرپول سے دوسرے ملک سے  ملزمان کو پاکستان لایا جاسکتا ہے تو ایک صوبے سے دوسرے صوبے ان کو کیوں نہیں لایا جاسکتا۔

عدالت نےظفر اقبال، محمد یاسین اور دیگر کی گمشدگی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

loading...
loading...