عمران خان کی ایسیٹ ڈیکلئریشن اسکیم مختلف کیوں؟

وزیر اعظم پاکستان عمران خان- فائل فوٹو

وزیر اعظم پاکستان عمران خان- فائل فوٹو

ایسیٹ ڈیکلئریشن اسکیم 2019 پر حکومتی دلائل اور اپوزیشن کی تنقید ہر سطح اور ہر ٹاک شو میں جاری ہے لیکن ہم یہاں اس اسکیم کا میرٹ پر جائزہ لیں گے اور جانیں گے کہ یہ اسکیم پاکستان اور پاکستانیوں کے حق میں ہے یا نہیں؟

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری ریگولر معیشت کے مساوی ہماری گرے اکانومی ہے جس کی کوئی لکھت پڑت نہیں۔ جو ڈاکومینٹڈ نہیں ہے، اس کی وجہ سے بڑے معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ آئے دن بے نامی اور جعلی اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی خبریں آپ سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔

آپ کو آسان الفاظ میں سمجھاتے ہیں کہ بے نامی اکاؤنٹس آخر ہیں کیا؟

 بے نامی اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟

کوئی بھی شخص اپنے کسی قریبی عزیز یا جاننے والے کے بینک اکاؤنٹ میں لین دین کرے۔ اُس بینک اکاؤنٹ میں پیسے رکھے، جس کے نام پر اکاؤنٹ ہو اس کے علم میں ہو۔ یہ بات بینک کا عملہ بھی جانتا ہے کہ اکاؤنٹ کسی اور کا ہے اور پیسہ کسی اور کا لیکن بینک اپنا بزنس اور ڈیپازٹ بیس بڑھانے کیلئے اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ اسی لیے کرپشن کا پیسہ رکھنے کیلئے بے نامی اکاؤنٹس اور بے نامی جائیداد استعمال ہوتی ہے۔

 جعلی اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟

کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اس کے نام پر کوئی بینک اکاؤنٹ بھی ہے۔ جس میں بڑی بڑی ٹرانزیکشن ہورہی ہیں۔ جیسا کہ آج کل سیاستدانوں کے اربوں روپے گولہ گنڈہ اور رکشہ ڈرائیورز کے بینک اکاؤنٹ سے نکل رہے ہیں۔ ان غریبوں کو تو پتہ ہی نہیں کہ ان کا بینک اکاؤنٹ کب کُھلا۔

ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار!

اب چونکہ ہم ایف اے ٹی ایف میں جاچکے ہیں۔ ملکی مالیاتی امُور میں ڈسپلن لارہے ہیں، اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت بے نامی ایکٹ بھی منظور کرچکی ہے، جس کے نفاذ کے بعد کسی کیلئے بھی بے نامی جائیداد برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

 آخری موقع؟

اسی لیے ضرورت محسوس ہوئی ایک ایسی ایمنسٹی اسکیم کی جس میں لوگوں کو آخری موقع دیا جائے۔

آج کابینہ نے ایسٹ ڈیکلئریشن اسکیم 2019 کی منظوری دے دی۔ سرکاری عہدہ رکھنے والوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے سیاست دان اس اسکیم سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ یہ اسکیم 30 جون 2019 تک جاری رہے گی۔

اس اسکیم کے تحت، پاکستان یا بیرون ملک اثاثے مالیت کی 4 فیصد ادائیگی پر قانونی بنائے جاسکیں گے۔

اگراثاثہ کیش کی صورت میں ہو تو 4 فیصد ادائیگی پر ڈکلئیر کیا جاسکے گا لیکن شرط یہ ہے کہ بقیہ رقم پاکستان میں بینک اکاؤنٹ میں رکھی جائے۔ اگر رقم بیرون ملک رکھنا ہی مقصود ہو تو 2 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا یعنی مالیت کی 6 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی۔

بے نامی پراپرٹی کیسے جائز بنائی جاسکتی ہے؟

 ریئل اسٹیٹ میں ایمنسٹی اسکیم کیلئے پراپرٹی کی مالیت ایف بی آر ویلیو سے ڈیڑھ گنا زائد شمار ہوگی۔ اگر پراپرٹی کی ایف بی آر ویلیو 10 لاکھ ہو تو اصل مالیت ڈیڑہ گنا زائد یعنی 15 لاکھ مانی جائے گی۔

ایک ایسے ملک میں جہاں معیشت کا سنگین مسئلہ غیر دستاویزی معیشت ہے۔ بے نامی لاء کے بھرپور نفاذ کیلئے حالیہ ایسیٹ ڈیکلئیریشن اسکیم معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ بشرط یہ کہ یہ اسکیم واقعی آخری موقع ہو اور 30 جون کے بعد حکومت ٹیکس چوروں سے سختی سے نمٹے۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...