ٹیلی اسکوپ ’ہبل‘ سپارکو نے خلاء میں بھیجی: فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری-فائل فوٹو

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری-فائل فوٹو

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ٹیلی اسکوپ ‘ہبل’ سپارکو نے خلا میں بھیجا ہے۔

یاد رہے کہ فواد چوہدری کو حال ہی میں وزارت اطلاعات سے فارغ کیا گیا ہے اور اب وزارت سائنس ملنے کے بعد پے در پے ان کے متنازع بیانات سامنے آرہے ہیں۔

اب انہوں نے صحافی شہزاد اقبال کے پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ ہبل دوربین سپارکو نے خلا میں بھیجی ہے۔

وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ ’ہبل‘ کو خلاء میں بھیجنے کا اعزاز ’ناسا‘ کی بجائے پاکستانی خلائی ادارے ’سپارکو‘ کو دے دیا۔

چاند دیکھنے اور اس پر آنے والے اخراجات کے معاملے پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے رویت ہلال کمیٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی کو چاہئیے کہ کم از کم چاند دیکھنے کا تو معاوضہ نہ لیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کو چاند رضا کارانہ طور پر دیکھنا چاہئیے۔

ہر سال چاند دیکھنے کی مد میں قومی خزانے سے بھاری رقم ادا کی جاتی ہے۔ اگر چاند دیکھنے کے لیے سائنسی تکنیک کی مدد لی جائے تو قومی خزانے سے ہونے والے بھاری اخراجات کو بچایا جا سکتا ہے۔ فواد چودھری نے مزید کہا کہ اگر دس سال کا کیلنڈر بنا لیا جائے تو ہر سال اس معاملے پر بھاری رقم خرچ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے رائے دی ہے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہر سال چاند دیکھنے کے معاملے پر قومی خزانے سے تیس سے چالیس لاکھ روپے خرچ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ میرے خیال سے چاند دیکھنے کے لیے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے اور رویت ہلال کمیٹی کو ختم کر دینا چاہئیے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز حکومت نے چاند کی رویت پر ہر سال پیدا ہونے والا تنازع ختم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی تھی۔

اس حوالے سے ماہرین دس سال کے لیے اسلامی تاریخ کا کیلنڈر جاری کریں گے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا کہ کمیٹی کے قیام سے چاند کی رویت پر ہر سال پیدا ہونے والا تنازع ختم کرنے میں‌ مدد ملے گی. حکومت رمضان، عید اور محرم کے چاند کی رویت کا مسئلہ حل کرنے کیلئے میدان میں آ گئی۔ ہر سال پیدا ہونے والا تنازع ختم کرنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی۔

وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کے مطابق کمیٹی آئندہ دس سال کیلئے اسلامی تاریخ کا کیلنڈر جاری کرے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ واضح رہے کہ رمضان المبارک اور عید کے موقع پر چاند ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہر سال اختلاف سامنے آتا ہے۔ خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مرکزی رویت حلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود مختلف دنوں میں عید منا لی جاتی ہے۔ اس حوالے سے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اس مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دی ، ان کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کو سائنسی انداز میں حل کرنے سے دیرینہ مسئلے پر قابو پایا جا سکے گا۔

سوشل میڈیا پر وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی اس بات پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

سپارکو کیا ہے؟

پاکستان خلائی و بالافضائی تحقیقی ماموریہ (سپارکو) انگریزی مخفف: Pakistan Space & Upper Atmosphere Research Commission) خلائی تحقیق کا پاکستانی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کی بالائی فضاء اور خلائی تحقیق کے سلسلہ میں کراچی میں ستمبر 1961ء کو قائم کیا گیا۔

اس ادارے نے اب تک خلائی موسمیاتی راکٹ چھوڑنے کے علاوہ 1991ء میں پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ بھی چھوڑا۔ پہلا راکٹ راہبر اول 7 جون، 1962ء کو خلاء میں چھوڑا گیا تھا۔ 1988ء تک پاکستان کے اس مقتدر ادارے کے ذریعے 200 موسمیاتی سیارے خلاء میں چھوڑَ گئے۔ یہ سیارچے 20 سے 550 کلومیٹر تک چھوڑے گئے ہیں۔ 1999ء اور 2002ء میں سپارکو کے سائنس دانوں نے شاہین میزائل کی تیاری کے سلسلے میں بھی مدد کی۔

ہبل ٹیلی اسکوپ کیا ہے؟

کئی صدیوں سے سائنس داں مختلف پہلوؤں سے نئی، نئی تحقیق ،ایجادات اور انکشافات کرنےمیں مصروف ہیں۔ان ہی کوششوں کے ضمن میں فلوریڈامیںقائم اسپیس شٹل نامی ادارےنے 24 اپریل 1990 ء کو ہبل ٹیلی اسکوپ متعارف کرائی تھی ۔اس ٹیلی اسکوپ کو ایڈون ہبل نامی سائنسداں نے تیار کیا تھا۔ اسی بناء پر اس کا نام ’’ہبل ٹیلی اسکوپ ‘‘ رکھا گیا ہے۔اس ٹیلی اسکوپ سے 115 سال پہلے آئن اسٹائن کے نظر یہ اضافیت کی تصدیق ہوئی تھی۔

loading...
loading...