ایف آئی اےکی ایک بارپھراصغر خان کیس بند کرنے کی استدعا

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے )نے سپریم کورٹ سے ایک بار پھر اصغر خان عملدرآمد کیس بند کرنے کی استدعا کردی۔

تفصیلات کے مطابق، پیر کو جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3رکنی بینچ نے اصغر خان عملدر آمدکیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے اصغر خان کیس سے متعلق جواب میں جمع کرایا گیا جس میں کیس کو ایک بار پھر بند کرنے کی استدعا کی گئی۔

ایف آئی اے نے اپنے جواب میں کہا کہ بےنامی بینک اکاؤنٹس کی مکمل تحقیقات کی گئی،گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے، صحافیوں سےانٹرویوزاورمختلف افراد سےپوچھ گچھ بھی کی لیکن  کیس کے آگے بڑھانے اورمزید ٹرائل کیلئے خاطرخواہ ثبوت نہیں مل سکے، ناکافی ثبوت کی بنیاد پر مقدمہ کسی بھی عدالت میں چلانا ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب وزات دفاع نےبھی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ وزرات دفاع کی جانب سے کورٹ آف انکوائری بنائی گئی جس نے 6 گواہوں کا بیان ریکارڈ کیا، کورٹ آف انکوائری نے تمام شواہد کا جائزہ لیا ہے جب کہ مزید گواہوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تمام کاوشیں کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی 29 دسمبر 2018 کو ہونے والی سماعت کے دوران ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کی تھی تاہم مرحوم اصغر خان کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے درخواست کی کہ یہ کیس بند نہیں ہونا چاہیے جس پر عدالت نے اس کیس کو بند کرنے کی ایف آئی اے کی سفارش مسترد کی تھی۔

loading...
loading...