وزیر اعظم  اور سربراہ ایم کیو ایم کیخلاف مذمتی قرار دادیں منظور

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: سندھ اسمبلی نے وزیر اعظم عمران خان اور ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کرلیں۔وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں بیان دینے اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے سندھ کوتقسیم کرنے کے بیان پرمذمتی قراردادیں منظور کرلی گیئں۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس انتہائی ہنگامہ خیز رہا ۔اپوزیشن نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔

اجلاس میں ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب وزیر اعلی تھر کول منصوبے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں پر برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والے آج خود ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے ہیں۔

ایم کیوایم کے اراکین ابھی  وزیر اعلی کے بیان پر احتجاج ہی کررہےتھے کہ پیپلز پارٹی کی شہلا رضا نے ایم کیوایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کے خلاف قرارداد مذمت پیش کردی جسے شور شرابے میں منظور کرلیا گیا۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی ندا کھوڑو نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان  پر قرارداد مذمت میں کہا کہ عمران خان نریندر مودی کے الیکشن ایجنٹ بن گئے ہیں۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کے کنور نوید جمیل کی جامعہ کراچی کی طالبہ اقصی محبوب سے زیادتی اور قتل کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پر  واقعے کی مذمت کرتے ہوئے آئی  جی سندھ کی لاعلمی اور لاپرواہی پر انہیں قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی تحریک بھی ایوان میں منظور کر لی گئی۔

loading...
loading...