گاؤں پر حملہ، 130 افراد ہلاک

Untitled-1

بماکو: افریقی ملک مالی میں دو قبائل کے درمیان لڑائی میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مالی میں شکاری قبیلے نے مقامی گاؤں پر حملہ کر دیا۔ حملہ آور شکاری قبیلے کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے بعد گاؤں کے تمام گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

شکاری قبیلے کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق  دونوں گروپوں کے درمیان زمین اور پانی کی ملکیت پر اکثر جھگڑا رہتا ہے۔

دونوں گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے جب کہ صورتحال پر قابو پانے اور امدادی کاموں کے لیے متاثرہ علاقہ میں فوج کو طلب کیا گیا۔

واضح رہے کہ مالی میں انتہا پسند گروپوں کے خلاف عالمی امن فوج اور فرانسیسی فوج تعینات ہے جب کہ اس سے قبل 21 جنوری کو مالی میں مسلح شدت پسندوں کے حملے میں عالمی امن فوج کے 10 اہلکار ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے تھے۔

گزشتہ ہفتہ بھی مالی میں منحرف فوجی کرنل آقا موسیٰ کے مسلح گروہ نے فوجی کیمپ پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں 21 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ حملہ مالی کے علاقے موپتی میں فوجی بیس پر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ  آقا موسیٰ مالی کی فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور انہوں نے فوج سے علیحدگی اختیار کر کے اپنا ایک عسکری گروپ قائم کر رکھا ہے۔

مالی میں سرگرم انتہا پسند گروپوں کو افریقی ساحلی خطے کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ مالی میں مختلف باغی گروہ مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ جس کے باعث وہاں امن عامہ کی صورتحال نہایت مخدوش ہے۔

loading...
loading...