محکمہ جنگلات کی زمین پرکبھی جنگل نظر نہیں آیا،سپریم کورٹ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی :سپریم کورٹ نے جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس میں ریماکس دیئے ہیں کہ محکمہ جنگلات کی زمین پر کبھی جنگل نظر نہیں آیا۔

بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سندھ میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا ملک میں کوئی درخت بچابھی ہے یاسب کٹ گئے؟۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جنگلات کی 24 لاکھ ایکڑاراضی واگزارکرالی اور جنگلات کی زمین کی تمام لیزبھی منسوخ کردی گئی۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیاسندھ حکومت اپنی کارکردگی سے مطمئن ہے؟جس پروکیل سندھ حکومت نے اعتراف کیا کہ زمین واگزارکرانے کاعمل سست روی کاشکارہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت ایک ہی بارسارے درخت کاٹ دے،کیا جنگلات کی زیادہ زمین پر اب جنگل رہا ہی نہیں؟۔

چیف کنزرویٹوجنگلات نے کہا کہ عارضی لیزدینے سے زمین کی حیت تبدیل نہیں ہوئی۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ محکمہ جنگلات نے خوددرخت اگانے کیلئے کیااقدامات کئےہیں؟،سندھ حکومت جنگلات کی حفاظت کیلئے کیاکررہی ہے؟،زمین لیز پر دے کر کہا جاتا ہے جنگلات کے تحفظ کے اقدامات ہورہے ہیں،نیب سے کسی کوبلالیتے ہیں،ذمہ داروں کیخلاف ریفرنس دائرکریں گے۔

چیف کنزرویٹو جنگلات نے کہا کہ  لیز پرزمین دینے کی منظوری صوبائی کابینہ دیتی ہے، جس پر جسٹس فیصل عرب  نے کہا کہ 500 روپے فی ایکڑ کے حساب سے زمین لیز پر دی جاتی ہے۔

سیکرٹری جنگلات نے کہاکہ  واگزار کی گئی اراضی پر درخت لگا رہے ہیں، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ  محکمہ جنگلات کی زمین پر مجھے کبھی جنگل نظر نہیں آیا۔

جسٹس عظمت سعیدنے کہا کہ  سیکرٹری کی نہیں فاضل جج کی بات پر یقین کروں گا، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ  عدالتی احکامات کے بعد محکمہ جنگلات بھتہ وصول کر رہا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ  فاضل جج کا بھی کہنا ہے کہ لیز کا پیسہ کسی اورکی جیب میں جا رہا ہے،  جنگلات کے معاملے پرسندھ حکومت بے بس نظرآ رہی ہے،  ضرورت پڑی تو سیٹلائٹ تصاویربھی منگوا لیں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے،  جو زمین واپس لی گئی ہے اس کے بارے بتائیں کیا کیا گیا ہے؟ ۔

سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ  52 ہزار ایکڑ پر لیز کینسل کی گئی ہے، ایک لاکھ 45 ہزار ایکڑغیر قانونی قبضہ ختم کروایا گیا ہے، 78 ہزارایکڑ زمین غیر قانونی الاٹمنٹ ختم کروائی گئی ہے،  مجموعی طور پر 2 لاکھ 75 ہزار ایکڑ زمین واگزار کروائی گئی ہے۔

درخواست گزارنے کہا کہ  اگرعدالت واگزا کرائی گئی زمین کے بارے کوئی پالیسی نہیں بناتی تودوبارہ قبضہ ہوجائے گا،  جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ جوزمین واگزارکرائی ہے وہ جنگلات کے مقصد کیلئے ہی استعمال ہوگی،  اس زمین کا کوئی دوسرا استعمال نہیں ہو گا۔

 بعدازاں عدالت نے 6ہفتوں میں کیس کی پیش رفت رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت 6ہفتوں کیلئے ملتوی  کردی۔

loading...
loading...